سائنس و ٹیکنالوجی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں جی جی کہاں تک پہنچ چکی ہے اور کہاں تک جائے گی؟

کراچی (94 نیوز) امریکہ اور چین جب سے آمنے سامنے آئے ہیں وہ اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لیے  ٹیکنالوجی کی دنیا میں ریس لگا رہے ہیں۔ ہواوے کمپنی پر امریکہ کی جانب سے لگائی جانے والی پابندیوں کے بعد چین نے بھی خود انحصاری پر توجہ زیادہ مرکوز کر دی ہے،

امریکی کمپنیوں نے 5ٹیکنالوجی ایجاد کر لی ہیں جو کہ چین کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے نئی مصیبت پیدا کر سکتی ہیں۔ چین نے 5جی کی بجائے 6جی پر کام شروع کر دیا ہے۔چین کی موبائل کمپنی ہواوے نے اوٹاوا میں واقع آر اینڈ ڈی سینٹر میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے 6جی کی پیش رفت پرتحقیقات کا آغاز کردیاہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی اقدامات کے بعد فائیو جی ٹیکنالوجی ہواوے کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے کمپنی نے 6 جی سروس پر کام شروع کیا اور اسے جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔ اوٹاوا میں ہواوے نے 13 یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے ساتھ مل کر آر اینڈ ڈی سینٹر میں 6 جی ٹیکنالوجی پر تحقیق شروع کردی۔

 کمپنی ترجمان کے مطابق فی الحال آغاز ہے کیونکہ 6 جی ٹیکنالوجی 2030ء سے قبل کمرشل بنیادوں پر دستیاب نہیں ہوسکے گی۔ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ ہواوے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر 6 جی نیٹ ورک اور نئی ایپلیکشنز پر کام کررہا ہے تاکہ وہ گوگل کے اینڈرائیڈ سسٹم پر سبقت حاصل کر سکے۔یاد رہے کہ امریکی حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ہواوے پر پابندیاں عائد کیں جس کے بعد کمپنی نے بھی اینڈرائیڈ پر انحصار ختم کردیا اورہواوے نے اپنا آپریٹنگ سسٹم متعارف کرایا۔اپریل میں امریکا اور جنوبی کوریا میں موبائل فون کمپنیوں نے دنیا میں سب سے پہلے 5 جی سروس فراہم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ جنوبی کوریا میں 2014 میں وائر لیس ٹیکنالوجی 5 جی کا ابتدائی خاکہ پیش کیا گیا تھا اور اسے دنیا بھر میں سنہ 2020 تک عام کرنے کا اعلان کیا گیا تھا البتہ ماہرین نے ایک برس قبل ہی کامیابی حاصل کی جس کے بعد مختلف ممالک میں باقاعدہ سروس متعارف کرادی گئی۔ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق 5 جی ٹیکنالوجی سے اسمارٹ فونز پر انٹرنیٹ کی رفتار پچاس گنا بڑھ جائے گی جس کے ذریعے صارفین محض ایک سیکنڈ میں کئی میگا بائیٹ کی فلم ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے۔
مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close