بین الاقوامی

ٹرمپ کا چینی صدر سے بات کرنے سے انکار

واشنگٹن (94 نیوز) امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے  گزشتہ روز دیئے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ فی الحال چینی صدر سے بات نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا کہناتھا کہ چین نے اقتصادی مقاصد کے لیے کورونا کی وبا پھیلائی۔انہوں نےیہ بھی کہا کہ ہوسکتا ہے امریکہ چین سے اپنے تعلقات توڑ لے۔

جمعرات کو فاکس بزنس نیٹ ورک پر نشر ہونے والے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ "انہیں چاہیے تھا وہ ایسا نہ ہونے دیتے، میں نے ان کے ساتھ ایک بہترین ڈیل کی، تاہم اب یہ مجھے اچھی نہیں لگ رہی، ابھی تو اس معاہدے کی سیاہی بھی نہیں سوکھی تھی۔ "

ٹرمپ نے کہا” ہمارے پاس کرنے کو بہت کچھ ہے، ہم کافی چیزیں کرسکتے ہیں حتی کہ ہم تمام تر تعلقات منقطع کرسکتے ہیں”۔  انہوں نےچینی سے درآمد کی جانے والی اشیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اگر ہم ایسا(تعلقات منقطع) کرتے ہیں تو ہمیں پانچ سو ارب ڈالرز کی بچت ہوگی۔”

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کروونا کی وبا پھیلانے میں چین کو مورد الزام ٹھہرانے کے بعد ری پبلیکن پارٹی کی خاتون رکن کانگرس نے بھی بیجنگ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عاید کیا ہےکہ کورونا کا پھیلائو چین کا ایک تزویراتی فیصلہ تھا جس کامقصد پوری دنیا کو اقتصادی بحران سے دوچار کرنا تھا۔

‘واشنگٹن ٹائمز’ کے مطابق امریکی خاتون رکن کانگرس لز چینی نے کہا کہ چین کرونا کی وبا پھیلانے کے بعد پوری دنیا میں بدنام ہوا ہے۔بیجنگ اب مہذب ممالک کی برادری میں نہیں رہ سکتا۔ انہوں نےیہ بات ‘فاکس اینڈ فرینڈز’پروگرام میں گفتگو کے وران کہی۔

لز چینی نےکہا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کو پوری دنیا میں کرونا پھیلانے پر جواب دہ ہونا چاہیے۔ چین نے پوری دنیا کو اقتصادی بحران سے دوچار کرنے کے لیے کرونا وائرس دنیا بھر میں پھیلا دیا۔

واضح رہے کورونا وائرس کے پھیلاو سے اب تک امریکہ متعدد بار اس کی ذمہ داری چین پر عائد کرچکا ہے، امریکہ کا خیال ہے کہ چین نے بروقت اطلاع نہ دے کر اس وائرس کو دنیا بھر میں پھیلنے کا موقع دیاہے۔ چین تمام امریکی الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ جبکہ عالمی ادارہ صحت بھی چین کے موقف کی تائید کرتا ہے۔  حال ہی میں ایک جرمن خفیہ ایجنسی نے امریکی الزامات کوعوام کی توجہ بٹانے کی ایک کوشش قرار دیاہے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close