قومیکامرس

وفاقی بجٹ میں وزیراعظم عمران خان کی تنخواہ و مراعات کیلئے رقم مختص

اسلام آباد (94 نیوز) وزیراعظم عمران خان کو آئندہ مالی سال میں 24 لاکھ 41 ہزار روپے تنخواہ ملے گی۔ وفاقی بجٹ میں رقم مختص کردی گئی، وزیراعظم آفس اخراجات کیلئے 46 کروڑ اور صدرمملکت آفس ملازمین کی تنخواہوں کیلئے ساڑھے40 کروڑ رکھے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2021-22 پیش کردیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کو آئندہ مالی سال میں سالانہ 24 لاکھ 41 ہزار روپے تنخواہ ملے گی، وفاقی بجٹ میں رقم مختص کردی گئی، وفاقی بجٹ 2021-22 کی دستاویزات کے مطابق وزیراعظم آفس اخراجات کے لیے 46 کروڑ 10لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ صدر مملکت کے آفس ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کے لیے 40 کروڑ پچاس لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات میں بتایا گیا کہ بجٹ 2021-22 میں قومی اسمبلی کیلئے5 ارب 58 کروڑ اور سینیٹ کیلئے3 ارب74 کروڑ کا بجٹ رکھنے کی تجویز ہے۔ وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت کے لیے 21 کروڑ 80 لاکھ روپے، وزیراعظم کی مشیروں کیلئے 3 کروڑ اور معاون خصوصی کیلئے 2 کروڑ90 لاکھ رکھنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات کیلئے 2 ارب2 کروڑ64 لاکھ کا بجٹ رکھنے کی تجویز ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی بجٹ میں ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کیلئے مختص بجٹ کی تفصیلات کے تحت بجٹ میں وزیراعظم ہاوَس کے لیے40 کروڑ 10لاکھ روپے رکھنے کی تجویزہے۔ اسی طرح وزیراعظم آفس کے لیے 52 کروڑ روپے اور وزیر اعظم ہاوَس کے باغیچے کے لیے 2 کروڑ61 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ ایوان صدر آفس کے لیے40 کروڑ50 لاکھ روپے اور ایوان صدرہاؤس کے لیے60 کروڑ15 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
اسی طرح اپوزیشن لیڈر کے دفتر کے لیے2 کروڑ71 لاکھ روپے کا بجٹ رکھنے کی تجویز ہے۔ بجٹ دستاویزات میں کہا گیا کہ فرنیچر، مصنوعی لیدر کی اشیاء اور جان بچانے والی6 ادویات سستی کی گئی ہیں، اجناس کی اسٹوریج کے لیے استعمال ہونیوالے مخصوص بیگز پر کسٹمز ختم اور 20 سے 30 ہزار روپے کے تحائف بذریعہ کوریئر بھیجنے پرٹیکس چارجز نہیں ہوں گے۔ اسی طرح تیار شدہ فوڈ سپلیمنٹ میں استعمال ہونیوالی اشیاء پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کردی گئی۔
اسی طرح حکومت نے آن لائن خریداری کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا اعلان کردیا ہے، انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کردی، انٹرنیٹ ڈیٹا ایک گیگا بائٹ پر5 روپے اضافی دینا ہوں گے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال 2021-22 میں دفاع کے لیے 1373 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دفاعی بجٹ مجموعی قومی بجٹ کا 16 فیصد اور جی ڈی پی کا 2.8 فیصد ہے، بجٹ میں پاک آرمی کا دِفاعی بجٹ ملکی بجٹ کا 7 فیصد ہے۔
وفاقی بجٹ کا کل حجم 8 ہزار 487 ارب روپے ہے۔ اسی طرح آئندہ مالی سال میں امن عامہ کے لیے 178 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ آئندہ مالی سال میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے 43 کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں، صحت کے لیے 28 ارب روپے اور تفریح، ثقافت و مذہبی امورکے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ شوکت ترین نے بجٹ تقریر میں کہا کہ وفاقی بجٹ میں کووڈ ایمرجنسی فنڈ کیلئے100 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
نئے بجٹ میں ایک ارب 10کروڑ ڈالر کورونا ویکسین کی درآمد پر خرچ ہوں گے۔ جون 2022 تک 10کروڑ لوگوں کی ویکسی نیشن کا ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کاہدف 4 اعشاریہ8 فیصد رکھا ہے۔ معاشی ترقی کا ہدف4 اعشاریہ8 فیصد سے بھی زیادہ رہنے کی توقع ہے ۔ معاشی ترقی کے ثمرات غریب عوام تک پہنچیں گے۔ آبادی کا 65 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمرافراد پر مشتمل ہے۔
نوجوانوں کے روزگار کیلئے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے صنعتی شعبے کو خصوصی مراعات دینگے۔ 6 ملین گھرانوں کو5 لاکھ تک قرضے دینگے۔ غریبوں کو گھر بنانے کیلئے20 لاکھ روپے تک قرضے فراہم کرینگے۔ ایک کروڑ مکانات کی تعمیر کیلئے خصوصی قرضے فراہم کرینگے۔ نیا پاکستان ہاوَسنگ پراجیکٹ کیلئے ٹیکسوں میں خصوصی رعایت دینگے، پاکستان میں پہلی بارمورگیج فنانسنگ شروع کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد ایڈہاک اضافہ ،پنشن میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔ مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے کم سے کم اجرت 20 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، طاقتور گروپس کو ملنے والی ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ کیا جائے گا، مقامی طور پر تیار گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کرکے 12.5 فیصد کی جارہی ہے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close