قومی

نوازشریف کے گارڈ کا صحافی پر تشدد،وہاں ہوا کیا ? اصل وجہ سامنے آ گئی

اسلام آباد(94نیوز)سابق وزیراعظم نوازشریف گزشتہ روز قومی اسمبلی میں شہبازشریف سے ملاقات کیلئے آئے تھے اور واپس جاتے ہوئے ان کے گارڈ نے صحافی کو تشدد کا نشانہ بنایا تاہم اس وقت دراصل یہ واقعہ کس طرح پیش آیا تھا، اس کی تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے پر صحافیوں کو دعوت پر بلایا جس دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کل جو ہوا وہ بہت برا ہوا ، انصاف ہونا چاہیے ، صحافی پر تشدد سے مجھے بہت دکھ پہنچا ۔نوازشریف کا کہناتھا کہ آپ میرے مزاج اور طبیعت سے اچھی طرح واقف ہیں ، کل قومی اسمبلی سے باہر آنے پر گارڈ میرے لیے راستہ بنارہا تھا اور جب گاڑی کے پاس پہنچ تو گارڈ شکور نے کیمرہ مین کو دھکا دیا جس پر کیمرہ مین نے جواب میں کیمرہ گارڈ شکور کے سر پر مارا ۔ نوازشریف کا کہناتھا کہ زیادتی کہیں سے بھی نہیں ہونی چاہیے اور میں شکور کیخلاف بھی ایکشن لوں گا۔

ویڈیو میں نواز شریف کا گارڈ انہیں گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کر رہا ہےا اردگر د صحافی بڑی تعداد میں موجود جو کہ نوازشریف کی فوٹیج بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ان سے سوالات بھی کر رہے ہیں تاہم اس دوران نوازشریف کو گاڑی میں بٹھانے کیلئے ان کے گارڈ نے کیمرہ مین کو دھکا دیا جس پر اس شخص نے کیمرہ شکور کے سر پر دے مارا اور وہ اسے ڈھونڈتے ہوئے اسے پیچھے بھاگے اور تشدد کا نشانہ بنایا ۔

‏نواز شریف کے گارڈز کی پارلیمنٹ ہاوس میں گنڈہ گردی! فوٹیج بنانے پر سماء نیوز کے کیمرہ مین اور ہمارے پیارے دوست واجد علی سید کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا.

Posted by Fixit on Monday, December 17, 2018

Tags
مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close