قومی

ننھی زینب کے سفاک قاتل عمران کو پھانسی پر لٹکادیا گیا، لاش ورثاکے حوالے

لاہور (94نیوز) قصور کی ننھی زینب سمیت 8 بچیوں کا قاتل عمران اپنے انجام کو پہنچ گیا، سفاک مجرم کو لاہور کی کوٹ لکھپت سنٹرل جیل میں آج صبح 05:30بجے پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ زینب کے قاتل کو میں مجسٹریٹ عادل سرور اور زینب کے والد محمد امین کی موجودگی میں پھانسی دی گئی۔ پھانسی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردی گئی، مجرم کا بھائی اور دوست ساڑھے 4 بجے لاش کی وصولی کیلئے ایمبولینس لے کر جیل پہنچ گئے تھے۔

مجرم عمران کو کوٹ لکھپت جیل میں صبح ساڑھے 5 بجے تختہ دار پر لٹکایا گیا جس کے بعد اس کی لاش آدھا گھنٹہ پھانسی گھاٹ پر جھولتی رہی ۔ ڈاکٹرز کی جانب سے موت کی تصدیق کیے جانے کے بعد سفاک قاتل کی لاش ورثا کے حوالے کردی گئی ۔ مجرم عمران کو پھانسی دیئے جانے کے وقت جیل کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ رہی ، جیل کے اطراف پولیس اور اینٹی رائٹس فورس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

مجرم عمران علی کی میت لینے کے لیے اس کا ایک بھائی اور دو دوست ایمبولینس لے کر کوٹ لکھپت جیل پہنچے تھے، جہاں قانونی کارروائی کے بعد عمران کی میت کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا، جسے لے کر وہ روانہ ہوگئے۔عمران کی اہلخانہ کی کوٹ لکھپت جیل میں آخری ملاقات کا بندوبست گزشتہ روز (منگل کو) کیا گیا تھا جہاں سزائے موت کے سیل میں مجرم عمران سے 45 منٹ تک اہلخانہ کی آخری ملاقات کروائی گئی تھی ۔

مجرم عمران پر زینب سمیت 8 بچیوں سے زیادتی کا الزام تھا جس پر اسے مجموعی طور پر 21 مرتبہ سزائے موت سنائی گئی تھی اور اب مجرم کی سزا پر عمل درآمد کردیا گیا ہے۔ قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی گئی 6 سالہ زینب کے والد امین انصاری نے لاہور ہائیکورٹ سے مجرم کو سر عام پھانسی دینے کی درخواست کی تھی تاہم عدالت عالیہ نے یہ استدعا مسترد کردی تھی۔

واضح رہے کہ رواں برس 4 جنوری کو قصور سے 6 سالہ زینب کو اغوا کیا گیا تھا جس کی لاش 9 جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ملی تھی، جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت زینب کے والدین عمرہ کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب میں موجود تھے۔ زینب کے قتل کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور قصور میں پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے دوران پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق بھی ہوئے۔

چیف جسٹس پاکستان نے واقعے کا از خود نوٹس لیا اور پولیس کو جلد از جلد قاتل کی گرفتاری کا حکم دیا۔23 جنوری کو پولیس نے زینب سمیت قصور کی 8 بچیوں سے زیادتی اور قتل میں ملوث ملزم عمران کی گرفتاری کا دعویٰ کیا۔اگلے ہی ماہ یعنی 17 فروری کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج شیخ سجاد احمد نے قصور کی 7 سالہ زینب سے زیادتی و قتل کے مجرم عمران کو 4 بار سزائے موت سنادی تھی، جسے ملکی تاریخ کا تیز ترین ٹرائل قرار دیا گیا تھا۔انسداد دہشت گردی عدالت نے مجرم عمران کو ک±ل 6 الزامات کے تحت سزائیں سنائی تھیں۔مجرم عمران کو ننھی زینب کے اغوا، زیادتی اور قتل کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت 4،4 مرتبہ سزائے موت سنائی گئی۔دوسری جانب عمران کو زینب سے بدفعلی پر عمرقید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ جبکہ لاش کو گندگی کے ڈھیر پر پھینکنے پر7سال قید اور 10 لاکھ جرمانےکی سزا بھی سنائی گئی تھی۔مجرم کی جانب سے سزا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل بھی دائر کی گئی تاہم 20 مارچ کو عدالت عالیہ نے یہ اپیل خارج کردی تھی۔ زینب سمیت 8 بچیوں تہمینہ، ایمان فاطمہ، عاصمہ، عائشہ آصف، لائبہ اور نور فاطمہ کے قتل کیس میں مجرم عمران نے سپریم کورٹ میں بھی اپنی سزائے موت کے خلاف اپیل دائرکی تھی تاہم سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقراررکھتے ہوئے اپیل خارج کردی تھی۔دوسری جانب زینب کے والد نے لاہور ہائی کورٹ میں مجرم کو سرعام پھانسی دینے کی درخواست دائر کی تھی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ حکومت کو کرنا ہوتا ہے۔

Tags
مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close