قومی

مینار پاکستان پر تشدد کا نشانہ بننے والی ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کہاں ملازمت کرتی ہے؟

لاہور (94 نیوز) مینار پاکستان پر 14 اگست کو ٹک ٹاک بناتی خاتون کو لوگوں کے بڑے ہجوم نے گھیر لیا اور انہیں زدوکوب کے علاوہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے کپڑے بھی پھاڑے ، اس حوالے سے قانونی کارروائی جاری ہے اور اب تک 15 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکاہے ۔

متاثرہ خاتون عائشہ اکرم خود سامنے بھی آئیں اور انہوں نے واقعہ کی صورتحال سے بھی عوام کو آگاہ کیا تاہم اب متاثرہ لڑکی سے متعلق بھی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں ۔مقامی اخبار ” جنگ نیوز“ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ متاثرہ خاتون عائشہ اکرم پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی سٹاف نرس ہیں اور وہ ایمرجنسی میں ڈیوٹی سرانجام دیتی ہیں ۔ بتایا گیاہے کہ ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کو ہسپتال کی جانب سے دومرتبہ دوران ڈیوٹی موبائل فون استعمال کرنے پر نوٹس بھی جاری ہو چکاہے ۔عائشہ اکرم کی اسپتال میں ڈیوٹی کے دوران ٹک ٹاک بنانے کی ویڈیوز بھی وائرل ہو چکی ہیں۔ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ عائشہ اکرم 3 سال قبل کوٹ خواجہ سعید اسپتال میں بطور نرس ڈیوٹی انجام دے چکی ہیں۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close