بین الاقوامی

میانمار میں فوج نے مارشل لاءلگا دیا

ینگون(94 نیوز) میانمار کی فوج نے ایک مرتبہ پھر آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کردی اور اقتدار پر قبضہ کرلیا ، علی الصبح چھاپوں کے دوران انہیں اور ان کی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) پارٹی کے دیگر رہنماوں کو حراست میں لے لیا، یہ اقدام حکومت اور فوج کے درمیان کئی روز کے تناﺅ کے بعد سامنے آیا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق فوج کے زیر ملکیت ایک ٹی وی سٹیشن پر جاری ایک بیان میں بتایاگیاکہ اس نے انتخابی دھاندلی کے جواب میں نظربندیاں انجام دی ہیں جس سے فوجی سربراہ من آنگ ہیلنگ کو اقتدار دیا گیا ہے اور ایک سال کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ۔

دارالحکومت نیپیداو اور اہم تجارتی مرکز ینگون کے لیے فون لائنز تک رسائی نہیں ہوسکی اور پارلیمنٹ کی پہلی نشست سے قبل سرکاری ٹی وی کو بھی بند کردیا گیا۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے ینگون کے سٹی ہال میں پوزیشن سنبھال لی ہیں اور این ایل ڈی کے گڑھ میں موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا اور فون سروسز بھی متاثر ہیں۔

حکمران جماعت  این ایل ڈی  کے ترجمان میو نیونٹ نے فون کے ذریعے بتایا کہ آنگ سان سو چی میانمار کے صدر ون مائنٹ اور دیگر این ایل ڈی کے رہنماو ں کو صبح سویرے ‘حراست میں لیا گیا،میں اپنے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ ردعمل نہ دیں اور میں چاہتا ہوں کہ وہ قانون کے مطابق کام کریں’۔انہوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ وہ خود بھی گرفتار ہوجائیں گے، بعد ازاں ان سے بھی رابطہ نہ ہوسکا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ حراست سول حکومت اور فوج کے درمیان کئی روز سے جاری کشیدگی میں اضافے کے بعد سامنے آئی ہے جس نے انتخابات کے نتیجے میں بغاوت کے خدشات کو جنم دیا تھا۔برطانوی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتوں فوج نے اشارہ دیا تھا کہ انتخابات کی بے ضابطگیوں کے حل کیلئے وہ اقتدار پر قبضہ کرسکتے ہیں ۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close