National

Stress in red msjdaurhkumt Ashrafi had heard news

Islam Abad(94 news) لال مسجد اور حکومت کے درمیان ایک ماہ سےجاری کشیدگی میں گذشتہ چند روز سے اضافہ ہو گیا ہےجبکہ دو روز قبل حکومت اور لال مسجد انتظامیہ کے درمیان مفاہمت کروانے والے پاکستان علماء کونسل کے سربراہ علامہ طاہر محمود اشرفی نے بھی فریقین کی ضد اور ہٹ دھرمی کے بعد مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات کے حوالے سے مزید کردار ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا تاہم اب ایک بار پھر علامہ طاہر اشرفی نے لال مسجد کشیدگی کے دوران بڑی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے خوشخبری سنائی ہے جبکہ لال مسجدانتظامیہ نے بھی آئندہ چند روز کے دوران وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ،ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی آپریشنز وقار، اے ڈی سی عمر رندھاوا کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر کرنےکا اعلان کر دیا ۔

تفصیلات کے مطابق لال مسجد انتظامیہ اور حکومت کےدرمیان ایک ماہ سے جاری کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور وفاقی حکومت نے لال مسجد کے اطراف میں پولیس کی بھاری نفری،ٹرک،واٹر ٹینکر،آنسو گیس کی شیلنگ والی گاڑیاں، بکتر بند گاڑی ، پرزنرز وینز لا کر کھڑی کر دی گئیں ہیں،حکومت اور لال مسجد انتظامیہ کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے والے پاکستان علماءکونسل کے چیئرمین علامہ طاہر محموداشرفی نے کشیدہ صورتحال میں گو کہ طرفین کے درمیان مذاکرات اور معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنے کے لئے مزید کردار ادا کرنے سے معذرت کر لی ہے تاہم اب بھی وہ اپنےطور پر کوشاں ہیں کہ حکومت اور لال مسجدانتظامیہ کسی بد مزگی اور آپریشن کی بجائے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرے تاکہ جامعہ حفصہؓ میں پڑھنے والی سینکڑوں بچیوں کو کسی قسم کا نقصان نہ ہو ۔ایسےمیں سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں علامہ طاہر محموداشرفی نے خوشخبری دیتے ہوئےکہا ہےکہ ’’الحمد اللہ معمولی سی کامیابی ملی ہے کہ لال مسجد کے معاملے پرحکومت اسلحہ استعمال نہیں کرےگی ،خدارا حالات کو بہتر ہونے دیں،اگر گالیاں دینے سے لال مسجد کا معاملہ حل ہوتا ہے تو بھائی خوب گالیاں دے لو لیکن مسئلے کا حل دعا سےہوگا گالیوں سے نہیں،دعا دعا دعا اور بس دعا،کھانا بچیوں کو بھیج دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ نےیقین دلایا ہےکہ لال مسجد میں حکومت اسلحہ استعمال نہیں کرےگی اور تصادم سےبچنے کی کوشش کریں گے، اللہ کریم کرےایسا ہی ہو۔

دوسری طرف لال مسجد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ابھی اسد عمر صاحب کو کال کی تو انکے سیکرٹری نے کہا کہ وہ ایریا میرے انڈر نہیں ، ہم ذمہ دار نہیں ہونگے ،افسوس کیا ایسے ہوتے ہے ریاست مدینہ کے ذمہ داران ؟ طالبات و معلمات اور اندر موجود بچوں نے کل صبح ناشتہ کیا تھا ،اس کے بعد سے کچھ نہیں کھایا کیونکہ یہاں کھانا دوسرے جامعہ سے آتا تھا اس لئے اندر کوئی راشن بھی نہیں ہے۔انہوں نےکہا کہ ابھی کچھ لوگ کھانا لیکر آئے اور سامنے کھڑے ہیں لیکن پولیس والے انکو کسی صورت کھانا اندر پہنچانے نہیں دے رہے ، انکے اگے کھڑے ہیں کہ کھانا نہیں جائے گا ،اوپر سے ڈی سی کا آرڈر ہے۔ترجمان لال مسجد کاکہنا تھا کہ انشاء اللہ بہت جلد وزیر داخلہ اعجاز شاہ ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی آپریشنز وقار، اے ڈی سی عمر رندھاوا کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائر ہو جائے گی، یہی لوگ نہ تو کھانا آنے دے رہے ہیں اور یہی لوگ آپریشن کی کمانڈ کر رہے ہیں۔

More

Related news

Leave a Reply

Close