قومی بجٹ مالی سال برائے 2026-27 معاشی و اقتصادی ترقی کے دعوے


94 نیوز تحریر: طارق محمود جہانگیری کامریڈ
وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے لیے 17.5 ٹریلین روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا ھے ۔ اس قومی بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی اور دفاع ایک بار پھر سب سے بڑے اخراجات کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ وفاقی بجٹ میں دفاع اور قرضوں کی ادائیگیوں کو فوقیت ملنے کے باعث ترقیاتی کاموں اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مالی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔ 10 جون کو پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ کے مطابق قرضوں کی ادائیگی پر 8.2 ٹریلین روپے خرچ ہوں گے، جو پورے بجٹ کا تقریباً نصف ہے۔ دفاعی شعبے کے لیے 2.5 ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جس کے باعث تعلیم، صحت، اور سماجی تحفظ جیسے اہم شعبوں کے لیے مالی وسائل مزید محدود ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کے تناظر میں دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ بجٹ میں ایک ٹریلین روپے پنشن ادائیگیوں کے لیے، 1.9 ٹریلین روپے صوبوں کو گرانٹس کے لیے، 1.2 ٹریلین روپے سبسڈی کے لیے، اور ایک ٹریلین روپے وفاقی حکومت کے روزمرہ امور چلانے کے لیے رکھے گئے ہیں۔ 14.1 ٹریلین روپے کی ٹیکس وصولی کا ایک بلند ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ نان ٹیکس آمدن کو 5.1 ٹریلین روپے تک پہنچانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد، زراعت کا 4.5 فیصد، اور چھوٹی صنعتوں کا 8.7 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکس کی شرح میں تبدیلی کے ساتھ ٹیکس سلیب کی تعداد میں رد و بدل کا بھی اعلان کیا گیا ہے ۔ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیب کی تعداد کو اگلے مالی سال میں چھ سے آٹھ کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے آمدنی کی چار سلیبز کے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تنخواہ دار طبقے میں زیادہ آمدن والے افراد پر نو فیصد سرچارج کو بھی ختم کر کرنے کا اعلان کیا گیا۔ 50 ہزار ماہانہ تک کی تنخواہ پر ٹیکس کی شرح صفر رہے گی۔ ایک لاکھ روپے ماہانہ تک آمدن والے تنخواہ دار طبقے پر ایک فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ ایک لاکھ سے تقریباً پونے دو لاکھ ماہانہ آمدن والے افراد پر چھ ہزار روپے کے ساتھ 11 فیصد ٹیکس عائد ہو گا۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان عالمی سطح پر ایک مستحکم اور باوقار ملک کے طور پر ابھرا ہے۔ ممکن ھے سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر حکومت نے مالیاتی سال 27-2026 کے بجٹ میں دفاعی اخراجات کے لیے مجموعی طور پر 2,450 ارب روپے مختص کیے ھوں ۔ وفاقی حکومت نے اپنے بجٹ میں 15 کروڑ روپے سے 50 کروڑ روپے تک کی آمدنی کی چھ سلیبز پر عائد سپر ٹیکس جو ایک فیصد سے لے کر ساڑھے سات فیصد کی سطح تک تھا کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 50 کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے آٹھ فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ شاید یہ اقدام چھوٹے کاروبار اور صنعتوں کو فروغ دینے، کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے ہے۔ بینکوں، تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور فرٹیلائزر کمپنیوں پر موجودہ سرچارج برقرار رکھا گیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ کا بتانا تھا کہ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11,751 ارب روپے ہو گی۔ جبکہ کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ہے۔ جس میں سے 8,054 ارب روپے مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے۔ وفاق کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 1,000 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,071 ارب روپے اور پینشن کے اخراجات کے لیے 1,169 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مزدور کی کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ بجٹ میں صحت کے منصوبوں کے لیے 25.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت نے مانع حمل وسائل پر عائد ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ درآمد کی جانے والی کاروں اور 2000cc سے بڑی اور 3000cc تک کی ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے ۔ وزیر خزانہ کے بقول پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے سے عوام کو بچانے کے لیے حکومت نے 128 ارب روپے کی عمومی پٹرولیم سبسڈی فراہم کی گئی۔ جبکہ صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے مستحق طبقات کے لیے ٹارگٹڈ پٹرولیم سبسڈی کا ایک مربوط اور شفاف نظام کامیابی سے نافذ کیا گیا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ پیش کرتے وقت یہ دعویٰ بھی کیا کہ زرمبادلہ کے ذخائر اب بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں ۔ترسیلات زر کے حوالے سے رواں سال کے صرف پہلے 11 مہینوں میں ہی 38 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔ اور مالی سال کے اختتام تک یہ ملکی تاریخ کے سب سے بلند ترین حجم یعنی 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق سرپلس میں 2.3 فیصد بہتری آئی۔ افراطِ زر 23.4 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد رہی۔ پاکستان 2022 کے بعد دوبارہ عالمی مالیاتی مارکیٹ میں داخل ہوا اور 750 ملین ڈالر کا یورو بانڈ کامیابی سے جاری کیا۔ کارپوریٹ سیکٹر کے منافعے میں 22 فیصد کا اضافہ ہوا۔ 39 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ نجکاری کے شعبے میں حکومت نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دہائیوں پرانے ایجنڈے کو پورا کیا۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجی شعبے کو منتقلی 185 ارب روپے کے عوض مکمل کی گئی۔ قومی بجٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا 53 فیصد کو روزگار ملا۔ جبکہ یوتھ لون سکیم کے تحت 258 ارب روپے تقسیم کیے گئے جس سے 534,000 نوجوان مستفید ہوئے۔ کراچی روہڑی سیکشن کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔گوادر بندرگاہ ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کے لیے 93 ارب سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی۔ وفاقی بجٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بجلی اور دیگر شعبوں کے لیے سبسڈی کے طور پر 1,091 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔ اسی طرح سے وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے لیے 71 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ میں 43 آبی منصوبوں کے لیے 103.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دیامیر بھاشا ڈیم کے لیے 14 ارب روپے، مہمند ڈیم کے لیے 22 ارب روپے، داسو ہائیڈرو پاور کے لیے 15 ارب روپے اور کراچی کے بلک واٹر سپلائی منصوبے کے فور کے لیے 10 ارب روپے شامل ہیں۔ شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے شعبے کے لیے 54.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے 46 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے علیحدہ 3.6 ارب روپے جبکہ روشن مثال دانش سکولز کے لیے تقریباً 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس اعتبار سے مجموعی طور پر سکول اور کالج کی تعلیم کے لیے 26.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ نوجوانوں کی ہنرمندی اور روزگار کے لیے نیوٹک کے ذریعے وزیر اعظم یوتھ سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 7.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے مجموعی طور پر 144.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے دعویٰ کیا ہے آپ رواں مالی سال کا قومی بجٹ بہت خلوص سے تیار کیا گیا، عوام کی فلاح کو اولین ترجیح دی گئی ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف کا اپنے پیغام میں یہ بھی کہنا تھا ک الحمدللہ اس بجٹ کو بہت محنت اور خلوص سے تیار کیا گیا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ بجٹ کی تیاری ملکی اور بین الاقوامی سطح پر درپیش معاشی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے سماجی و معاشی خوشحالی کے اہداف کو نمایاں جگہ دی گئی ہے۔
نوٹ: ادارے کا کالم نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں،

