کالم

فیصل آباد کے صحافیوں کیلئے پریس کلب کی جانب سے شمالی علاقہ جات کا یاد گار ٹؤور

ٹؤور کے بہترین انتظامات، بہترین جگہ کے انتخاب، سفری سہولت، ہوٹل و دیگر امور پر صحافیوں کا گروپ لیڈر شاہد علی اور پریس کلب انتظامیہ کا شکریہ

” رابطہ” تحریر: میاں ندیم احمد

صحافت ایک ایسا پیشہ ہے جس میں دن رات کی مصروفیات، خبروں کی دوڑ، حالات ِحاضرہ پر نظر اور معاشرتی مسائل کی کوریج صحافیوں کو مسلسل ذہنی دباؤ میں رکھتی ہے۔ ایسے میں اگر صحافیوں کو تفریح، معلومات اور قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کا موقع میسر آجائے تو یہ نہ صرف ان کی ذہنی تازگی کا باعث بنتا ہے بلکہ ان کے پیشہ ورانہ جذبے میں بھی نئی توانائی پیدا کرتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت فیصل آباد پریس کلب کی جانب سے شمالی علاقہ جات کے لیے تین روزہ تفریحی و معلوماتی ٹوؤر کا اہتمام کیا گیا، جس میں صحافی برادری کی بڑی تعداد کو پاکستان کے خوبصورت ترین علاقوں کی سیر کا موقع ملا۔ اس کامیاب اور یادگار ٹور کے انتظامات میں فیصل آباد پریس کلب کی انتظامیہ کی خدمات قابل ستائش ہیں، خصوصی طور پر گروپ لیڈر شاہد علی گروپ کی خدمات اور صحافیوں کیساتھ محبت قابلِ ستائش رہیں جنہوں نے سفر کے ہر مرحلے پر بہترین انتظامات کو یقینی بنایا۔شاہد علی کی معاونت سیکرٹری پریس کلب شوکت علی وٹو، فنانس سیکرٹری رانا محسن فاروق کرہے تھے۔ لاجسٹکس کی ساری ذمہ داری ایڈمن پریس کلب عقیل احمد اور اسکی ٹیم کے ذمہ تھی۔ پریس کلب سے سفر کا آغاز انتہائی آرام دہ اور جدید گاڑیوں کے ذریعے ہوا۔ راستے بھر شرکاء کے آرام، سہولت اور حفاظت کا خاص خیال رکھا گیا۔ راستے میں صحافیوں نے میوزک کے ذریعے خوب لطف اٹھایا، موٹر وے پر خراٹے بھرتی گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے صحافی میوزک اور سیلفیوں میں جہاں مصروف رہے وہیں ایک دوسرے کیساتھ خوش گپیوں، جگتوں اور لطیفوں کا بھی تبادلہ ہوا، سوات کے علاقہ کالام میں صحافیوں کے لیے رہائش کے بہترین انتظامات کیے گئے جہاں ہوٹل کے صاف ستھرے اور آرام دہ کمروں نے تھکاوٹ کو خوشگوار آرام میں بدل دیا۔ کالام میں ہوٹل میں سامان رکھ کر تھوڑی دیر آرام کیا گیا پھر عقیل احمد ایڈمن پریس کلب اور انکے ساتھیوں نے کھانے کا بہترین انتظام کیا،کھانا خود تیار کیا گیا۔ کھانے کے بعد تمام صحافی مختلف ٹولیوں میں دریائے سوات کے کنارے، کالام بازار اور دیگر مقامات پر گھومنے پھرنے چلے گئے، وہاں تصاویر بنانے اور وی لاگ کا سلسلہ بھی جاری رہا، رات کے وقت کالام کے پہلو سے شور مچاتا ہوا دریائے سوات گزرتا ہے جس کے کنارے بیٹھ کر راقم نے اپنے دیگر دوستوں کے ہمراہ جن میں شاہد علی، رانا محسن فاروق،شوکت علی وٹو،رائے واصف، رانا صابر علی، طلحہ حامد اوررانا عظیم نے وہاں کے مقامی گلوکاروں سے اپنی پسند کے گیت، عارفانہ کلام سنا۔ ایک طرف دریا کے پانی کا شور، ساتھ ٹھنڈی ٹھنڈی تیزہوا اور میوزک کی دھنوں نے اس سفر کی تھکاوٹ کو دور کردیا، اس موقع پر شاہد علی گروپ لیڈر، رانا محسن فاروق فنانس سیکرٹری پریس کلب و دیگر بھی ان فنکاروں کیساتھ گنگناتے دکھائی دئیے۔ صوفیانہ کلام پر رانا صابر کے بے تکلف رقص پر ساتھیوں نے خوب داد دی، رات گئے تک میوزک کا یہ سلسلہ چلتا رہا۔ اس ٹور کا سب سے خوبصورت پہلو شمالی علاقہ جات کے دلکش مقامات کی سیر تھی۔ سوات، جسے پاکستان کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے، اپنی قدرتی خوبصورتی، سرسبز پہاڑوں اور دلکش وادیوں کی وجہ سے ہر سیاح کو مسحور کر دیتا ہے۔ صحافیوں نے سوات کے حسین مناظر سے بھرپور لطف اٹھایا اور قدرت کے شاہکاروں کو قریب سے دیکھا۔کالام کی حسین وادی نے شرکاء کو اپنی جانب کھینچ لیا۔ برف پوش چوٹیوں، نیلگوں آسمان اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے ماحول کو مزید دلکش بنا دیا۔ کالام کے بلند و بالا پہاڑ اور بہتے ہوئے دریا قدرت کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت نظر آئے۔اوشو فاریسٹ (Ushu Forest) کا دورہ اس ٹور کی خاص باتوں میں شامل تھا۔ بلند و بالا دیودار کے درخت، گھنے جنگلات اور خاموش فضا نے ہر شخص کو قدرت کے قریب ہونے کا احساس دلایا۔ جنگل کی خوبصورتی ایسی تھی کہ الفاظ اس کی مکمل ترجمانی نہیں کر سکتے۔ اوشو فارسٹ میں کھانا پکانے کا اہتمام کیا گیا، اور جنگل میں بیٹھ کر کھانے کی تیاری کے دوران شاعری، لطیفوں اور گانوں کا مقابلہ بھی دیکھنے کو ملا۔ یہاں ایک اور چیز ابر کر سامنے آئی جہاں صحافی اپنے پروفیشنل کام میں بہترین دکھائی دیتے ہیں وہاں انہوں نے بہترین گانے گا کر یہ بھی ثابت کیا کہ وہ بہترین گائیک بھی ہیں، اس موقع پر عامر آفریدی نے اپنی آواز کا جادو جگا کر سب کو اپنا گرویدہ کرلیا۔ بعد ازاں صحافیوں کو دیسائی میڈوز (Desai Meadows) لے جایا گیا، جو اپنے شاندار سبزہ زاروں، بلند پہاڑی سلسلوں اور دلکش قدرتی مناظر کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں موجود بلند ترین پہاڑی سلسلوں کا نظارہ ہر شخص کے لیے ناقابلِ فراموش تجربہ ثابت ہوا۔ بادلوں کو پہاڑوں سے لپٹتے اور برف پوش چوٹیوں کو سورج کی روشنی میں چمکتے دیکھنا ایک ایسا منظر تھا جو ہمیشہ یاد رہے گا۔یہاں تک پہنچنے کیلئے خاص جیپوں کا انتظام کیا گیا۔ سفر اتنا خطرناک تھا کہ سب حیران اور خوش لگ رہے تھے۔راستہ بہت کٹھن مگر پر لطف تھا۔باقاعدہ سڑک تو نہیں بنی ہوئی تھی مٹی اور پتھروں سے بنا ہوا یہ راستہ یاد گار بن گیا۔ سفر کے دوران برف باری نے بھی شرکاء کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔ برف کے سفید گالے جب آسمان سے زمین پر اتر رہے تھے تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے قدرت اپنے حسن کا خصوصی مظاہرہ کر رہی ہو۔ صحافیوں نے برف باری سے خوب لطف اٹھایا اور اس یادگار لمحے کو اپنے کیمروں میں محفوظ کیا۔اسی مقام پر مینگو پارٹی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا، جہاں آموں سے لطف اٹھاتے رہے اور ساتھ ہی برفباری کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ شمالی علاقوں کے خوبصورت دریا بھی اس سفر کا اہم حصہ رہے۔ شفاف پانی، بہتے ہوئے چشمے اور دریا کا شور فطرت کے ایک منفرد ساز کی مانند محسوس ہو رہا تھا۔ یہ مناظر انسان کو چند لمحوں کے لیے دنیاوی مصروفیات سے دور کرکے سکون اور اطمینان کی کیفیت میں لے جاتے ہیں۔واپسی پراسلام آباد سے موٹر وے پر تیز اور طوفانی بارش کیساتھ سفر جاری رہا، اسلام آباد سے فیصل آباد تک بارش نے ٹوور کو اور یادگار بنا دیا۔ یہ ٹور صرف تفریح تک محدود نہیں تھا بلکہ اس نے صحافیوں کو پاکستان کے قدرتی حسن، سیاحتی امکانات اور قومی اثاثوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی فراہم کیا۔ شرکاء کے درمیان باہمی روابط مضبوط ہوئے، تجربات کا تبادلہ ہوا اور صحافتی برادری میں مزید ہم آہنگی پیدا ہوئی۔فیصل آباد پریس کلب کی یہ کاوش قابلِ تعریف ہے جس نے صحافیوں کی فلاح و بہبود اور ذہنی تازگی کے لیے ایک بہترین پروگرام ترتیب دیا۔ بالخصوص شاہد علی گروپ مبارکباد کا مستحق ہے جس نے بہترین سفری انتظامات، معیاری رہائش اور سیاحتی مقامات کے عمدہ انتخاب کے ذریعے اس ٹور کو کامیاب اور یادگار بنا دیا۔بلاشبہ یہ تین روزہ سفر صرف ایک ٹور نہیں تھا بلکہ خوبصورت یادوں، نئی توانائی، باہمی محبت اور پاکستان کے دلکش شمالی علاقوں سے محبت کے ایک نئے احساس کا نام تھا۔ ایسے پروگرام مستقبل میں بھی جاری رہنے چاہئیں تاکہ صحافی برادری اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ذہنی آسودگی اور تفریح کے مواقع سے بھی بھرپور استفادہ کر سکے۔قدرت کے حسین نظارے انسان کو نہ صرف تازگی بخشتے ہیں بلکہ وطنِ عزیز پاکستان کی بے مثال خوبصورتی پر فخر کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button