تقریبات/سیمینارز

فیصل آباد این جی اوز نیٹ ورک کے زیراہتمام امام حسین رضی اللہ سیمینار کا انعقاد

ہمیں آج حسینی کردار اپنے کی ضرورت ہے، ظالم کیخلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے، مقررین

فیصل آباد (94 نیوز) فیصل آباد این جی اوز نیٹ ورک، فیس فاؤنڈیشن اور کئیر فاؤنڈیشن کی زیراہتمام مقامی ہوٹل میں شہادت امام حسین رضی اللہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء، مشائخ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

سیمینار کی صدارت ڈاکٹر افتخار حسین نقوی چئیرمین عزاداری کونسل نے کی جبکہ مہمانان اعزاز میں ڈاکٹر عبدالحفیظ اداری امن و تعلیم، مفتی مظفر اقبال، چئیرمین فیصل آباد این جی اوز نیٹ ورک میاں ندیم احمد، جنرل سیکرٹری یوسف عدنان، قاری طاہر محمود سیالوی، قاری سہیل، صاحبزادہ منشاء سالک، پیر عارف شاہ، مولانا عبدالرحمن، سید تاثیر احمد، حافظہ رقیہ، پرویز بھٹی، پاسٹر سلیمان یونس، پاسٹر نعیم،میاں ظفر اقبال، ارشاد پرکاش، فاروق ایوب، یونس شہزاد، راجہ ٹامس، عاشر اقبال، پروزی صادق، نورین تبسم، طلعت ناہید، رضیہ عزیز، ریحانہ شاہد، رفعت سلطانہ، نصرت، نسرین بخاری اور حافظ محمد عثمان نے شرکت کی۔

مققرین نے اپنے خطاب میں امام حسین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ کربلا ایک لڑائی نہیں بلکہ ایک تاریخ رقم کی گئی امام حسین نے شہادت کا رتبہ پایا اور یزید نے لعنت کا۔ امام حسین نے ظالم کے آگے سر نہیں جھکایا اور حق پر رہے رہتی دنیا تک امام حسین کا پرچم بھی بلند رہے گا اور ان کا نام بھی بلند رہے گا۔ امام حسین نے جنگ میں بھی نماز نہیں چھوڑی ، انہوں نے ثابت کیا کہ ظلم کی خلاف ڈٹ جاؤ، اور کبھی بھی ظلم کا ساتھ نہ دو،

مقررین نے کہا کہ آج بھی ہمیں ظالم کے روپ میں موجود یزیدوں کے خلاف ڈٹ جانے کی ضرورت ہے، آپس میں پیار، محبت، امن و سکون اور انسانیت کے جذبے کو اجاگر کرنے کے لئے ہمیں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، مققرین نے کہا کہ آج ہمیں حسینی کردار اپنے کی ضرورت ہے۔ یزید ایک شخص کا نام نہیں یہ ایک کیفیت ہے ایک کردار ہے۔

علماء نے کہا کہ فیصل آباد این جی اوز نیٹ ورک نے اس سیمینار کا انعقاد کرکے ثابت کردیا کہ این جی اوز نہ صرف انسانی خدمت میں آگے ہیں بلکہ مذہبی ہم آہنگی میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں، میاں ندیم احمد کی قیادت میں جس طرح این جی اوز انسانیت کی خدمت کررہی ہیں ہم تمام ممبران کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button