بین الاقوامی

عید کے روز وادی کشمیر لہو لہو، نماز عید کے بعد قابض بھارتی فورسز کشمیریوں پر ٹوٹ پڑی

سری نگر(94نیوز) مقبوضہ کشمیر میں عید کے روز بھی قابض بھارتی فوجیوں نے مظلوم کشمیریوں کے لہو سے وادی کو ’’لال ‘‘ کردیا، قابض فوج کے بدترین مظالم بھی کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبا نہ سکے ،عید الفطر انتہائی عقیدت اور جوش و خروش سے منایا گیا ،نماز عید کے بڑے اجتماعات دیکھ کر بزدل بھارتی فوج آپے سے باہر ہو گئی ،نماز عید کے اجتماعات کے بعد کئی مقامات پر آزادی کے متوالوں اور بزدل بھارتی فوج کے درمیان جھڑپیں،درجنوں کشمیری زخمی۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں عیدالفطر کا تہوار کشمیریوں نے پورے مذہبی جوش و جذبے کیساتھ منایا، نماز عید کے اجتماعات کے بعد کئی مقامات پر آزادی کے حامی مظاہرین اور  بھارتی فورسزکے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں،جن میں متعدد کشمیری زخمی ہو گئے جبکہ ان جھڑپوں میں بھارتی اہلکار بھی زخمی ہوئے ۔

سری نگر کے پائین شہر کی تاریخی و مرکزی جامع مسجد کے باہر عید کی نماز کی ادائیگی کے بعد کشمیری  نوجوانوں نے آزادی کے نعرے لگائے تو بھارتی فورسز نے نہتے کشمیریوں پر حملہ کر دیا ،بھارتی سورماؤں نے مظلوم کشمیریوں کے خلاف لاٹھی چارج ،آنسو گیس اور چھرے والی بندوقوں کا اندھا دھند استعمال کیا جس سے کئی کشمیری شدید زخمی ہو گئے۔  اننت ناگ اور کپواڑہ اضلاع میں بھی عیدالفطر کی نماز کے بعد احتجاجی نوجوانوں کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، جس سے کئی کشمیری زخمی ہوگئے ۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے عید کے روز وادی میں ریل سروس معطل رکھی ۔دوسری طرف حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق نے سری نگر کی تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں اپنا معمول کا خطبہ دیا اور عید کی نماز ادا کی۔ انہوں نے قابض فورسز کے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے حوصلوں کو تشدد سے دبایا نہیں جا سکتا ۔مقبوضہ  کشمیر میں نماز عید کا سب سے بڑا اجتماع تاریخی جامع مسجد اور شہر آفاق جھیل ڈل کے کناروں پر واقع درگاہ حضرت بل میں منعقد ہوا  جہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے نماز عید ادا کی۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close