قومی

عورت مارچ رکوانے کی درخواست، جسٹس کے ریمارکس، فیصلہ محفوظ کرلیا گیا

اسلام آباد (94 نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے عورت مارچ رکوانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں عورت مارچ رکوانے کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ وکیل درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ہم عورت مارچ یا ان کے حقوق کے خلاف نہیں بلکہ ان کے پلے کارڈز اورسلوگنز کےخلاف ہیں، عورت مارچ کے پلے کارڈز اور سلوگنز اسلامی تعلیمات کیخلاف ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ آپ نے ریکارڈ پر کیا رکھا ہے جو اسلامی تعلیمات کیخلاف ہو، ان کے سلوگنز کی کیا ہم اپنے طور پر تشریح کرسکتے ہیں؟ انھوں نے کل پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اسلام میں دئیے گئے اپنے حقوق مانگ رہی ہیں۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ خواتین کو جو حقوق دیے گئے میں ان کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آج پورے میڈیا میں ان کی پریس کانفرنس شائع ہوئی ہے،جب پریس کانفرنس میں بات واضح کردی تو ہم کیسے مختلف تشریح کرسکتے ہیں، آپ نے آج کی وضاحت دیکھی ہے جو کل پریس کانفرنس میں جاری کی گئی؟ وہ ان حقوق کیلئے آواز اٹھا رہی ہیں جو انہیں نہیں دیے جا رہے،

ان کے سلوگنز تو وہی ہیں کہ جو اسلام نے ان کو حقوق دیے،سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ خاتون تھیں، آج بھی ہمارے معاشرے میں بچیوں کے پیدا ہونے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عورت مارچ تو ابھی ہونا ہے، آپ کی درخواست قبل از وقت ہے ۔

درخواست گزار وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہم آپ کو اپنی بات بتانے آئے ہیں اور آپ ہمیں اپنی باتیں سنا رہے ہیں، آپ وہ سلوگنز دیکھ لیں جو پٹیشن کے ساتھ لگائے گئے ہیں۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ ضروری ہے کہ آپ اس عورت مارچ کو مثبت انداز میں دیکھیں،آپ اپنے طور پر ان کے سلوگنز کی تشریح کیسے کر سکتے ہیں؟آپ یہ بتائیں کہ ہم کتنی خواتین کو وراثتی حقوق دے رہے ہیں۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close