عوام پر بوجھ، اشرافیہ پر لطف و کرم


تحریر: میاں ندیم احمد "رابطے”
پاکستان کے عوام ایک بار پھر بجٹ کی چکی میں پسنے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی بجٹ کو عوام دوست، متوازن اور ترقی پسند قرار دیا گیا، مگر زمینی حقائق کچھ اور کہانی سنا رہے ہیں۔ عام آدمی کی جیب پہلے ہی خالی ہو چکی ہے، مگر حکمران طبقات اور معاشی منصوبہ سازوں کو شاید اب بھی اس میں مزید گنجائش نظر آتی ہے۔ملک کا مزدور، کسان، سرکاری ملازم، پنشنر اور دیہاڑی دار طبقہ مسلسل مہنگائی کی مار سہہ رہا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں عوام کے صبر کا امتحان لے رہی ہیں۔ بچوں کی تعلیم اور بیماروں کا علاج متوسط طبقے کے لیے خواب بنتا جا رہا ہے۔ گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں، لیکن حکومتی ایوانوں میں ترقی اور معاشی استحکام کے دعوے بدستور گرم ہیں۔سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جن لوگوں پر عوام کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہی لوگ اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے لیے سب سے زیادہ سرگرم نظر آتے ہیں۔ اسمبلیوں میں عوامی مسائل پر اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن جب بات مراعات بڑھانے کی ہو تو اکثر سیاسی جماعتیں ایک صف میں کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ رویہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں صرف عوام ہی قربانی دینے کے لیے رہ گئے ہیں؟ کیا معاشی مشکلات کا سارا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے، تاجروں، مزدوروں اور کسانوں نے ہی اٹھانا ہے؟ کیا اشرافیہ، بیوروکریسی اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اس ملک کا حصہ نہیں؟ اگر ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے تو قربانی کی ابتدا اوپر سے کیوں نہیں ہوتی؟پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر حکومت نے عوام کو صبر، برداشت اور قربانی کا درس دیا، مگر حکمران طبقہ خود اس امتحان سے اکثر محفوظ رہا۔ پروٹوکول کم نہیں ہوئے، سرکاری اخراجات کم نہیں ہوئے، شاہانہ طرز زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی، البتہ عوام کی مشکلات ضرور بڑھتی گئیں۔آج پاکستان کا سب سے بڑا المیہ صرف مہنگائی نہیں بلکہ احساسِ ناانصافی ہے۔ عوام کو اس بات پر زیادہ تکلیف ہوتی ہے کہ ایک طرف انہیں بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے قرض لینا پڑتا ہے اور دوسری طرف سرکاری وسائل پر عیش و آرام کے نئے باب رقم کیے جا رہے ہوتے ہیں۔ ایک مزدور کا بچہ فیس نہ ہونے کی وجہ سے سکول چھوڑ دیتا ہے جبکہ مراعات یافتہ طبقے کے لیے نئی سہولتوں کا اعلان ہوتا ہے۔ یہی تضاد عوام میں بے چینی اور بداعتمادی پیدا کرتا ہے۔بجٹ دستاویزات میں ترقی کے دعوے ضرور درج ہوتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ترقی کس کی ہو رہی ہے؟ اگر عام آدمی کی قوت خرید مسلسل کم ہو رہی ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں اور نوجوان مایوسی کا شکار ہیں تو پھر ترقی کے اعداد و شمار کس کے لیے ہیں؟ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر بیرونی قرضوں اور عالمی مالیاتی اداروں کے اثرات سے انکار ممکن نہیں۔ جب بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلا جائے تو عوامی فلاح کے منصوبے ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا ہم واقعی معاشی طور پر خود مختار ہیں یا اب بھی دوسروں کی شرائط پر اپنا مستقبل ترتیب دے رہے ہیں؟ ٹیکسٹائل صنعت، جو پاکستان کی برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، شدید بحران کا شکار ہے۔ بجلی، گیس اور پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث متعدد فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں یا اپنی پیداوار کم کرنے پر مجبور ہیں۔ فیصل آباد، جو پاکستان کا مانچسٹر کہلاتا ہے، وہاں ہزاروں مزدور روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔ صنعت بند ہونے کا مطلب صرف ایک فیکٹری کا بند ہونا نہیں بلکہ سینکڑوں خاندانوں کے چولہوں کا ٹھنڈا ہو جانا ہے۔کاروباری طبقہ بھی مشکلات کی شکایت کر رہا ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار بڑھتے ہوئے اخراجات اور کم ہوتی قوتِ خرید کے باعث مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ بازاروں میں رونق کم ہو رہی ہے، خریدار سوچ سمجھ کر خریداری کر رہے ہیں اور کئی کاروبار خسارے کے باعث بند ہونے کے قریب ہیں۔اس دوران حکومت کی جانب سے مختلف ترقیاتی اور صفائی ستھرائی کے منصوبوں کا بھی چرچا ہے۔ مثال کے طور پر ”ستھرا پنجاب” جیسے منصوبے بظاہر عوامی فلاح کے لیے ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان منصوبوں کے حقیقی اور دیرپا نتائج کیا ہیں؟ اگر ایک طرف عوام کو دو وقت کی روٹی میسر نہ ہو، نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدر ہوں، صنعتیں بند ہو رہی ہوں اور معیشت سست روی کا شکار ہو تو کیا صرف نمائشی اقدامات عوامی مسائل کا حل بن سکتے ہیں؟ صفائی اور خوبصورتی یقیناً اہم ہیں، مگر ترجیحات کا تعین بھی ضروری ہے۔ ایک مقروض ملک، جو اربوں ڈالر کے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہو، کیا وہ ایسے منصوبوں کا متحمل ہو سکتا ہے جن کی افادیت پر سوالات اٹھ رہے ہوں؟ کیا بہتر نہیں کہ وسائل کا بڑا حصہ تعلیم، صحت، صنعت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خرچ کیا جائے؟حقیقی خود مختاری کا راستہ قرضوں کے مزید بوجھ سے نہیں بلکہ قومی خود انحصاری سے گزرتا ہے۔ ملک کو ایسی معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو پیداوار بڑھائیں، صنعت کو مضبوط کریں، برآمدات میں اضافہ کریں اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کریں۔ ٹیکس کا بوجھ انہی لوگوں پر ڈالنے کے بجائے ان طبقات تک بھی پہنچایا جائے جو دہائیوں سے نظام کے سائے میں فائدے اٹھا رہے ہیں۔حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام اب صرف وعدے نہیں بلکہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔ عوام یہ نہیں پوچھ رہے کہ معاشی مشکلات کیوں ہیں، عوام یہ پوچھ رہے ہیں کہ قربانی صرف انہی سے کیوں مانگی جا رہی ہے۔ اگر حکمران طبقہ واقعی عوام کے ساتھ کھڑا ہے تو اسے اپنے اخراجات، مراعات اور شاہانہ طرز زندگی میں کمی کر کے مثال قائم کرنا ہوگی۔پاکستان کے عوام نے ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ جنگ ہو، سیلاب ہو، زلزلہ ہو یا معاشی بحران، عوام نے ہر مشکل وقت میں ریاست کا ساتھ دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست بھی عوام کا ساتھ دے۔ کیونکہ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے محلات، پروٹوکول یا سرکاری گاڑیاں نہیں ہوتیں، بلکہ اس کے مطمئن، خوشحال اور باعزت شہری ہوتے ہیں۔اگر بجٹ کا مقصد صرف اعداد و شمار کا توازن قائم کرنا ہے تو شاید یہ کامیاب قرار دیا جا سکے، لیکن اگر مقصد عوام کو ریلیف دینا، ان کی زندگی آسان بنانا اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے تو پھر ابھی بہت سا کام باقی ہے۔عوام کی خاموشی کو رضامندی نہ سمجھا جائے، کیونکہ جب مسائل حد سے بڑھ جائیں تو سوال بھی بلند ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور آج پاکستان کا ہر شہری یہی سوال کر رہا ہے کہ آخر اس ملک میں قربانی ہمیشہ عام آدمی نے ہی کیوں دینی ہے؟
عوام کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ آٹا، گھی، چینی، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ ایک مزدور یا متوسط طبقے کا فرد اپنے گھر کا بجٹ بناتے ہوئے پریشان ہے کہ بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ ضروریات کو کیسے پورا کرے۔پاکستان کے پاس وسائل کی کمی نہیں، کمی صرف ترجیحات اور مؤثر حکمرانی کی ہے۔ اگر فضول اخراجات کم کیے جائیں، ٹیکس کا بوجھ منصفانہ انداز میں تقسیم کیا جائے، صنعتوں کو سہولت دی جائے، کاروباری ماحول بہتر بنایا جائے اور اشرافیہ بھی عوام کے ساتھ قربانی میں شریک ہو تو ملک کی معاشی سمت بہتر ہو سکتی ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور پالیسی ساز زمینی حقائق کو مدنظر رکھیں۔ عوام کو صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اپنی زندگی میں بہتری چاہیے۔ انہیں روزگار، سستی بجلی، معیاری تعلیم، بہتر علاج اور مہنگائی سے نجات درکار ہے۔ ترقی کا اصل معیار بلند و بالا منصوبے نہیں بلکہ وہ خوشحالی ہے جو عام آدمی کے گھر تک پہنچے۔اگر قوم کی اکثریت پریشان ہو، روٹی پوری نہ ہو رہی ہو، صنعتیں بند ہو رہی ہوں اور نوجوان مستقبل سے مایوس ہوں تو پھر ترقی کے دعوے عوام کے لیے محض الفاظ رہ جاتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نمائشی اقدامات سے آگے بڑھ کر ایسی معاشی پالیسیاں اپنائی جائیں جو عوامی فلاح، صنعتی ترقی اور قومی خودمختاری کی ضامن ہوں۔ورنہ یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا جائے گا کہ اس ملک میں بوجھ عوام کے لیے ہے اور لطف و کرم صرف اشرافیہ کے حصے میں آتا ہے۔

