قومی

عمران خان کی پیپلز پارٹی کو ٹارگٹ نہ کرنے کی ہدایت، کس کو ٹارگٹ کرنا ہے؟

اسلام آباد(94 نیوز) وزیراعظم پاکستان عمران خان کی صدارت میں پی ٹی آئی کے ترجمانوں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ پیپلز پارٹی کو ٹارگٹ نہ کیا جائے۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے پروگرام میں پارٹی موقف دیتے ہوئے صداقت عباسی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا کبھی بھی ریاست مخالف بیانیہ نہیں رہا۔ ان کے ساتھ سندھ میں پہلے سے تعاون جاری ہے اور مزید ورکنگ ریلیشن شپ قائم ہو سکتا ہے۔

صداقت عباسی کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کا ریاست مخالف بیانیہ ہے اور لیڈر مفرور ہیں۔ انہوں نے پروگرام میں یہ بھی اعتراف کیا کہ بغاوت کی ایف آئی آر کی وجہ سے اپوزیشن کو موقع مل گیا ہے۔ جس کوہر روز پیٹا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کا اس ایف آئی آر سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس نے بھی مقدمہ درج کرایا ہے وہ پی ٹی آئی کی نمائندگی نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی پی اور پی ایم ایل (ن) کرپشن کی وجہ سے ایک ساتھ ہیں۔

ہم نیوز کے پروگرام پاکستان ٹونائٹ میں شریک دوسری مہمان اور پی پی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ عوام حکومتی بیانیے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

پروگرام میں شریک مہمان اور ن لیگ کی رہنما مائزہ حمید نے میزبان سید ثمر عباس کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات میں کہا کہ جس نے مقدمہ درج کرایا ہے اس کے متعلق سب کو علم ہے کہ وہ کس پارٹی کا ہے؟

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close