National

Imran Khan arrived in Quetta on a one-day visit

Quetta (94 news) وزیراعظم عمران خان مچھ میں قتل کیے گئے کان کنوں کی تدفین کے بعد ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان کے دارالحکومت آمد کے موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد و دیگر افراد بھی موجود ہیں.

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں صوبے کی امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا اس کے علاوہ وزیراعظم سانحہ مچھ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے بھی ملاقات کریں گے واضح رہے کہ وزیراعظم کا یہ دورہ مچھ میں پیش آئے سفاکانہ قتل کے واقعے کے بعد خصوصی طور پر کیا جارہا ہے اور اس حوالے سے وزیراعظم نے بھی کچھ دن قبل ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ میں بہت جلد کوئٹہ پہنچوں گا.
کل رات گئے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کے بعد لواحقین نے دھرنا ختم کرنے اور میتوں کو دفن کرنے کا اعلان کیا تھا کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے قتل کیے گئے کان کنوں کی نماز جنازہ کے موقع پر وفاقی وزرا اور صوبائی وزرا سمیت لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی کان کنوں کی میتوں کو گذشتہ شب دھرنے کے مقام سے ہزارہ ٹاﺅن میں ولی عصر امام بارگاہ منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہیں.
گذشتہ شب دھرنا منتظمین کے ساتھ مذاکرات کے لیے آنے والے حکومتی ارکان میں وفاقی وزیر علی زیدی، وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال سمیت دیگر عہدیدار شامل تھے دھرنے کے مقام سے حکومتی ارکان میں شامل وفاقی وزیر علی زیدی نے مذاکرات کے بعد دھرنے کے شرکا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کمیٹی کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں.
ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ حکومت کی جانب سے تحریر معاہدہ کیا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وزیر داخلہ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیشن بھی تشکیل دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ جن افسران کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا ان کے حوالے سے بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے علی زیدی نے بتایا کہ نادرا اور پاسپورٹ کے مسائل کو بھی حل کرنے کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا ہے اس کے علاوہ جو مطالبات تسلیم کیے گئے ہیں ان کے مطابق مرنے والوں کے شرعی وارث کو سرکاری ملازمت دی جائے گی.
اس موقع پر دھرنا منتظمین نے دھرنا شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پرامن انداز میں دھرنا ختم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ ان کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں یاد رہے کہ یہ واقعہ گذشتہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب مچھ کے علاقے میں پیش آیا تھا جس میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے دس کان کنوں قتل کر دیے گئے تھے جس کے بعد ان کے لواحقین اور ہزارہ برادری کا کوئٹہ شہر کے باہر مغربی بائی پاس پر شدید سردی میں دھرنا چھ روز تک جاری رہا.

More

Related news

Leave a Reply

Close