قومی

صحت کارڈ پروگرام غریبوں کیلئے تحفہ ہے، میاں فرخ حبیب

فیصل آباد (94 نیوز) وفاقی پارلیمانی سیکرٹری ریلویز میاں فرخ حبیب نے کہا ہے کہ عوام کو صحت جیسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے وفاقی اور پنجاب حکومت کا صحت کارڈ پروگرام غریبوں کیلئے تحفہ ہے جبکہ ریاست ماں جیسا کردار ادا کرتے ہوئے ریاست مدینہ اور فلاحی ریاست کی جانب گامزن ہے۔ چیئر مین  سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے اپوزیشن کو اپنے اندر سے ہی اپوزیشن کا سامنا  کرنا پڑ گیا۔ ابو بچانے،کرپشن اورچوری کا پیسہ بچانے والے اور جوجیلوں سے باہر آنا چاہتے تھے وہ ناکام ہوگئے۔ چوروں ،لٹیروں اور ڈاکوئوں کے خلاف احتساب کا عمل بلا تفریق جاری رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میو نسپل کارپوریشن فیصل آباد کے ٹی ایم اے ہال میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت ملک کو مسائل سے نجات دلانے کیلئے مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے پالیساں بنا رہی ہے ۔

تبدیلی کا سفرہسپتالوں سے شروع ہو چکا ہے۔نئے پاکستان میں مریضوں کو معیاری علاج معالجہ دے کر ان کا حق لوٹائیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے وعدے کے مطابق اپنے پہلے سال میںصحت سہولت پروگرام کے ذریعے ملک بھر میں صحت انصاف کارڈ پروگرام لانچ کرکے اسے پورا کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے نادار طبقات حکومت کی خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔انہیں باعزت انداز میں علاج کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ صحت انصاف کارڈایسا شاندار منصوبہ ہے جس کی ملکی تاریخ میں اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے چوروں کا ٹولہ جو کرپشن کے جھنڈے تلے اکٹھے ہوئے تھے جس کی قیادت شہباز شریف، بلاول زرداری، پانامہ رانی اور مولانا فضل الرحمان کر رہے تھے ، بری طرح ناکام ہوئے ہیں جبکہ اپوزیشن کو اپنے اندر سے ہی اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑ گیا۔انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے فیصلوں اور ایجنڈوں سے ان کے اپنے سینیٹرز نے اتفاق نہیں کیا اور اپوزیشن کے 14سینیٹرزنے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے صادق سنجرانی کو ووٹ دے کر ان پر اعتماد کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم کی ناکامی حقیقی معنوں میں جمہوریت اور سینٹ کی فتح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتمادکی ناکامی کے بعد ابو بچانے والے ،چوری بچانے والے اور جیلوں سے جو باہر آنا چاہتے تھے وہ ناکام ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے جن سینیٹرز نے صادق سنجرانی کو ووٹ دیا انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز پر حق اور سچ کو ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی پاکستان دوست اور مثبت پالیسوں کی بدولت صادق سنجرانی کو کامیابی ملی۔ وہ پہلے بھی ہاوس کو بڑی اچھی طرح چلارہے تھے اور اب بھی اپنی مثبت سوچ کے مطابق چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کو جب نیب بلاتی ہے اور ان سے پوچھتی ہے کہ اربوں ڈالر آپ کے اکاونٹ میں کیسے آئے تو وہ کہتی ہیں کہ مجھے نہیں پتا، پاپا جی سے پوچھو،چاچا مرحوم سے پوچھو۔انہوں نے کہا کہ جس کے اکاونٹ میں پیسے آرہے ہیں ،اسے نہیں پتہ لیکن ان کی سوچ پر داد دینی پڑتی ہے کہ سینیٹرز کے اکاونٹ میں کروڑوں روپے کیسے آئے ہیں اور وہ کہاں سے آئے ہیں جبکہ ان کواپنے اکاونٹ کا پتہ نہیں۔ انہوں نے کہا چوروں، لٹیروں اور ڈاکوئوں کو کوئی این آر او اور ڈھیل نہیں ملے گی جبکہ ریکوری کا کام شروع ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ پاک فوج اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے خلاف باتیں کر رہے ہیں وہ بھارت اور مودی کی زبان بول رہے ہیں ۔اپنی شکست اور شرمندگی کو دور کرنے کے لیے فوج پر تنقید کر رہے ہیں جبکہ فوج ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ،ملکی دفاع اور بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے کوشاں ہے۔ اس موقع پر چیئرمین پی ایچ اے و ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری لطیف نذر ،وائس چیئرمین واسا و دیگر بھی موجود تھے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close