تقریبات/سیمینارز

شکر گزاری ایمان کی روح اور بندگی کی پہچان جبکہ حمد الہی دلوں کو سکون اور زندگیوں کو توازن عطا کرتی ہے، علامہ محمد ادریس

فیصل آباد(94 نیوز سٹی رپورٹر) تحریک منہاج القرآن کے مرکزی نائب ناظم اعلیٰ علامہ محمدادریس قادری نے جامع مسجدگلزارمدینہ ڈھڈی والامیںدرس عرفان قرآن کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی کو وہ بندہ بے حد محبوب ہے جو ہر حال میں اس کا شکر ادا کرتا اور اس کی حمد بیان کرتا ہے۔ شکر گزاری ایمان کی روح اور بندگی کی پہچان ہے جبکہ حمد الہی دلوں کو سکون اور زندگیوں کو توازن عطا کرتی ہے۔ قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر شکر کی ترغیب دی گئی ہے اور ناشکری کو زوال و محرومی کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ شکر صرف زبان سے ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ نعمتوں کے صحیح استعمال، اطاعتِ الہی اور مخلوقِ خدا کی خدمت سے اس کا عملی اظہار ہوتا ہے۔ جو بندہ نعمت ملنے پر شکر اور آزمائش آنے پر صبر اختیار کرتا ہے، اللہ تعالی اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ حمدِ الہی انسان کو غرور، مایوسی اور بے چینی سے محفوظ رکھتی ہے۔ جب بندہ اللہ کی تعریف بیان کرتا ہے تو اس کا دل اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے اور زندگی کے مسائل آسان ہو جاتے ہیں۔اس موقع پرقاری ریاست علی چدھڑ، ملک غلام حسین، سہیل مقصود، محمد انور انجم، محمد ارشد مغل، زاہد اقبال طاہر، حافظ سرفراز احمد، علامہ سعید کاوش، انصر اقبال کموکا، شفقت حسین کموکا، ظہوراحمدکموکا،غلام مصطفی نعیمی، محمد علیم خان،غلام محمد قادری ،نبیل ارشاد،ضیاء غوری،بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ شکر گزاری فرد کے باطن کو سنوارتی، معاشرے میں مثبت طرزِ فکر کو فروغ دیتی اور اجتماعی سطح پر اخلاقی استحکام کا باعث بنتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور کے چیلنجز کا موثر حل یہی ہے کہ ہم شکر اور حمد کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ نعمتِ ایمان، صحت، امن، علم اور رزق پر شکر ادا کرنا دراصل ان نعمتوں کے دوام کی ضمانت ہے۔ رسولِ اکرم ۖ کی سیرتِ طیبہ شکر و حمد کا کامل نمونہ ہے، جس پر عمل پیرا ہو کر ہم اللہ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی ہمیں شکر گزار اور حمد کرنے والا بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو نورِ ایمان سے منور کرے ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button