کالم

شادی زدہ بے چارے لوگ

(تحریر کشف رانا)

ویسے تو میاں بیوی کا رشتہ جنت کا پہلا رشتہ ہے اور کسی حد تک دیکھنے اور سننے میں خوبصورت بھی لگتا ہے۔ مگر یہ ہمارے معاشرے کا بے حد سلگتا ہوا رشتہ ہے۔ اور بعض اوقات تو اتنا زیادہ سلگ جاتا ہے کہ ہمسائے تک ٓکر ہاتھ سین جاتے ہیں۔ ویسے مجھے شادی شدہ لوگوں پر بہت ترس آتا ہے اور میں انہیں شادہ شدہ کی بجائے "شادی زدہ ” کہتی ہوں۔ جیسے سیلاب زدہ، افلاس زدہ، مصٰبت زدہ، (ایسے شادی بھی کسی مصیبت سے کم نہیں ہوتی)۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا بندھن ہے جس میں دو عقل مند لوگوں کو خواہ مخواہ لڑنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ یہ ایک "لائف ٹائم کنٹریکٹ” ہے۔ اور اتنا لمبا کنٹریکٹ سوچ سمجھ کر ہی سائن کرنا چاہئے۔ مجھے ایک دوست کی شادی میں جانے کا تفاق ہوا لڑکی کچھ ڈری، سہمی اور گھبرائی ہوئی تھی۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ نجانے کیسے لوگ ہوں، میرے ساتھ نجانے کیسے رویہ رکھیں۔ میں نے ازراہ مذاق کہا، دیکھو لڑکی جلدی سے اپنی آخری خواہش بتاؤ۔ اور یہ بتاؤ کیا تمہیں چھریاں نظر آرہی ہیں؟ (یہ اسکی گھبراہٹ کم کرنے کیلئے کہا)۔ "بیٹا” شادی ایک مکمل جہاد کا نام ہے، زندہ رہے تو غازی مرگئے تو شہید، بھئی ہم بھی کئی بار شہید ہوتے ہوتے بچے ہیں۔ دوسری جانب، دولہے کے گھر میں بھی صورتحال کوئی خاص مختلف نہیں ہوتی، اکثر دولہے کے گھر سے یہ اعلان ہوتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ دولہے کی مضافات والے دوست اپنے حفاظتی بند باندھ لیں کیونکہ دولہا خود کش حملے کیلئے بالکل تیار ہے۔
قارئین! خیر یہ تو ایک مذاق کی بات تھی۔ اصل بات جو میں آپ سے کرنا چاہتی ہوں وہ یہ ہے کی شادی ایک مکمل ذمہ داری کا کام ہے۔ اور کسی کو اتنی بڑی ذمہ داری سونپنے کے لئے پہلے اسکی تیاری بے حد ضروری ہے۔ پہلے زمانے میں ہماری بڑی خواتین بچیوں کو سمجھاتی تھیں کہ بیٹا اس گھر میں تمہاری ڈولی جا رہی ہے اب تمہارا جنازہ ہی وہاں سے نکلے۔ (مطلب یہ ہوتا تھا کہ تمام دکھ، سکھ اور تکالیف وہیں برداشت کرنی ہیں) آجکل کی مائیں یہ کہتی ہیں بیٹا تمہاری ڈولی جا رہی ہے ہمارے داماد کا جنازہ ہی نکلنا چاہئیے۔ ہم اپنی بچیوں کو یہ تربیت تو ضرور دیتے ہیں کہ بیٹا صبر اور برداشت سے کام لینا ہے مگر انہیں یہ نہیں بتاتے کہ صورتحال کو کیسے ہینڈل کرنا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچیاں شروع شروع میں تو طنزیہ جملے اور سخت باتوں کو برداشت کر لیتی ہیں مگر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب وہ پھٹ پڑتی ہیں۔ اور یہیں سے بگاڑ کی صورتحال پیدا ہوت ہے۔
بنیادی وجوہات: میرے نزدیک اسکی بنیادی وجوہات دونوں گھرانوں کے ماحول کا فرق ہے۔ بچیاں جو کام اپنے گھر میں کرتی ہیں۔ ان کا Reaction کسی اور طرح ہوتا ہے جبکہ وہی کام وہ سسرال میں کرتی ہٰن تو Reaction کچھ اور ہو جاتا ہے۔ اور بگاڑ پیدا ہو تا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار: بچیوں کی تربیت میں میڈیا اور سوشل میڈیا بھی بہت اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ جب ایک ہی ٹی وی چینل پی ٹی وی ہوتا تھا اور تمام گھر والے ایک جگہ بیٹھ کر ٹی وی دیکھا کرتے تھے اور ڈرامے کا Content اتنا اچھا ہوتا تھا کہ اس میں کوئی نہ کوئی مثبت پیغام اور سبق ضرور ہوتا تھا۔ اور یہی بچیوں کو سکھایا جاتا تھا کہ بچیوں کو حتی الامکان کوشش کرنی چاہئے کہ انکا گھر بسا رہے۔ مگر نہایت افسوس اور بڑی معذرت کیساتھ آج ہمارے ڈراموں میں عورت ہی عورت کا استحصال کرتی ہوئی دکھائی جا رہی ہے یہاں سے بھی بچیوں کی تربیت پر بہت غلط تاثر پڑتا ہے۔
سردست مسئلہ: میرا خیال ہے کہ شادی سے پہلے ضرور لڑکے اور لڑکی کیلئے ایسی ٹریننگ ورکشاپس ہونی چاہئیں جس میں دونوں کو خاندانی اور ازدواجی زندگی کے مسائل اور انکے حل کیلئے انہیں تربیت دی جائے۔ اور انہیں یہ بتایا جائے کہ کون سی صورتحال کو کیسے ہینڈل کرنا ہے۔ اس سلسلے میں ہمرے مذۃبی اسکالرز جن میں اساتذہ نگہت ہاشمی اور مولانا طارق جمیل صاحب اپنی اپنی سطح پر رہتے ہوئے بڑا اچھا کام کررہے ہیں، اور اپنے حصے کا کردار ادا کررہے ہیں۔
میرا نقطہ نظر: کالج اور یونیورسٹی لیول پر اسے بطور "مضمون” as a subject پڑھایا جائے کہ سسرالی بدصورت رویوں کو کس طرح محبت میں تبدیل کرکے ایک پرامن ماحول بنایا جا سکتا ہے۔
مقابلہ بازی کی حوصلہ شکنی: اکثر بچیاں اپنے شوہروں کا مقابلہ دوسرے مردوں (اپنے بھائیوں یا انکے بھائیوں سے کرتی) مثلاََ بیوی کہتی ہے (میرا یا آپکا) بھائی تو اپنی بیوی کے اتنے ناز اور نخرے اٹھاتا ہے جبکہ آپ تو ایسا نہیں کرتے۔ دوسری طرف مرد حضرات بھی کچھ کم نہیں وہ بھی یہ (اپنی بیگمات) کو کہتے سنائی دیتے ہیں کہ تم تو میرے آگے پڑ۔ پڑ بولتی ہو جبکہ تماری بہن تو اپنے خاوند کے آگے بولتی بھی نہیں۔ (اتنا ڈرتی) مقابلے کے اس رویے کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے ہمیں لڑکے اور لڑکیوں کو فرداََ فرداََ ڈیل کرنے کے فن سے آشنائی کروانی چاہئے تاکہ انہیں اپنے لائف پارٹنر کو اصلاح کے نام پر ذلیل کرکے انکی برائیوں کا چرچا کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ اور انہیں ہر رشتے کو انکے مناسب مقام پر رکھنے کی تربیت دی جائے، تاکہ کسی بھی رشتے کی حق تلفی نہ ہوسکے، تاکہ ہمارے معاشرے میں طلاق کی شرح کم ہوسکے اور کئی گھر ٹوٹنے سے بچ سکیں۔ آخر میں میری ذاتی رائے یہی ہے کہ انسان کو شادی ضرور کرنی چاہئے کیونکہ "آخر زندگی میں عزت ہی سب کچھ نہیں ہوتی”

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی اپنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا لازم نہیں۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close