قومی

سینیٹ الیکشن کے بعد پی ڈی ایم کے 3 بڑوں نے سر جوڑلئے

اسلام آباد (94 نیوز) چئیرمین و ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کے الیکشن میں شکست کے بعد پی ڈی ایم کے تینوں سربراہان نے سر جوڑ لیے ہیں۔

سینیٹ الیکشن کے بعد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں تینوں رہنماؤں نے چئیرمین و ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کے انتخاب میں شکست کی وجوہات تک پہنچنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
تینوں رہنماؤں نے لانگ مارچ کی تیاریوں اور پی ڈی ایم کے مستقبل پر تبادلہ خیال بھی کیا۔ اور اتفاق پایا کہ صادق سنجرانی سے قریبی تعلق رکھنے والے اپوزیشن اراکین کو چیک کیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ چئیرمین سینیٹ کے انتخاب میں ووٹ مسترد اور پھر ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کے انتخاب میں حکومتی امیدوار کو وہ سب ووٹ کیسے مل گئے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اب استعفوں کے بغیر لانگ مارچ فائدہ مندہ نہیں ہو گا۔واضح رہے کہ جمعہ کے روز چئیرمین و ڈپٹی چئیرمین سینیٹ الیکشن میں حکومت اپوزیشن کو شکست دینے میں کامیاب ہوئی۔

حکومتی امیدوار صادق سنجرانی 48 ووٹ حاصل کر کے چئیرمین سینیٹ منتخب ہو گئے۔ یوسف رضا گیلانی نے 42 ووٹ حاصل کیے جب کہ یوسف رضا گیلانی کے 8 ووٹ مسترد بھی ہوئے۔
حکومتی سینیٹرز نے چئیرمین سینیٹ کا اعلان ہوتے ہی جشن منانا شروع کر دیا جب کہ اپوزیشن ارکان کی جانب سے نعرے بازی کی گئی۔ جبکہ بعد میں حکومتی اتحاد کے امیدوار مرزا محمد آفریدی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے۔ ایوان بالا میں ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن میں 98 سینیٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا ، پولنگ مکمل ہونے کے بعد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے نتائج کا اعلان کیا ، جن کے مطابق حکومتی امیدوار مرزا محمد آفریدی نے 54 ووٹ حاصل کیے اور اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے امیدوار مولانا عبدالغفورحیدری 44 ووٹ حاصل کرسکے جب کہ 98 ووٹوں میں سے کوئی ایک بھی ووٹ مسترد نہیں ہوا۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close