قومی

سیاسی راہنماؤں کی پکڑ دھکڑ سے آمرانہ دور کی یاد تازہ ہو گئی،شاہ اویس نورانی

لاہور(94نیوز) جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل صاحبزادہ شاہ محمد اویس نورانی نے کہا ہے کہ سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے اہل خانہ کے ساتھ نیب کی بدسلوکی شرمناک عمل ہے، سیاسی راہنماؤں کی پکڑ دھکڑ سے آمرانہ دور کی یاد تازہ ہو گئی ہے، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی قابل مذمت ہے،حکومت نے غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی لگائی۔

جمعیت علمائے پاکستان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صاحبزادہ شاہ اویس نورانی نےکہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کو دبانے کے لئے نیب کو استعمال کر رہی ہے، نیب اور حکومت کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے، نااہل اور ناکام حکومت الزام اور انتقام کی سیاست کر رہی ہے،اپوزیشن کے گرینڈ الائنس کی راہ ہموار ہو چکی ہے، حکومت بھارتی دھمکیوں پر قوم کو متحد کرنے کی بجائے انتقامی کاروائیوں سے سیاسی انتشار پیدا کر رہی ہے،حکومت عوامی مسائل کو بھول کر اپوزیشن کو کچلنے میں مصروف ہے،اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنا فسطائیت ہے،اپوزیشن متحد ہو کر حکومتی مظالم کا مقابلہ کرے گی،بھارتی دھمکیوں کا جواب دینے کے لئے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

 انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن نے احتجاجی تحریک شروع کی تو حکومت قائم نہیں رہ سکے گی،پوری قوم بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد اور پُرعزم ہے، بھارت کسی بھول میں نہ رہے،بھارت نے پاکستان پر حملے کی حماقت کی تو تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اختلافات بھلا کر دفاع وطن کی جنگ لڑیں گی، عالمی برادری بھارت کی امن دشمنی روکنے کے لئے کردار ادا کرے،بھارتی دھمکیوں پر اقوام متحدہ کی خاموشی افسوسناک ہے۔
مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close