قومی

سگریٹ نوشی کیخلاف آواز اٹھانا استاد کو مہنگا پڑگیا،قانون پر عملدرآمد کروانے کی بجائے ڈی سی نے تشدد کرڈالا

جہلم (94 نیوز) پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی کیخلاف آواز اٹھانا استاد کو مہنگا پڑگیا،قانون پر عملدرآمد کروانے کی بجائے آواز اٹھانے والے کو ہی جیل بھیج دیاگیا۔

تفصیلات کے مطابق جہلم ویلی (ہٹیاں بالا آزادکشمیر)کے ڈی سی کے دفترمیں جاکر پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی کیخلاف درخواست دی تو اس موقع پر کچھ تلخ کلامی بھی ہوئی جس کے بعد ڈی سی نے مبینہ طور پر پی ایچ ڈی پروفیسر پر بدترین تشدد کرواکر جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا۔

آصف سہیل نامی شخص نے پروفیسر جمیل کی جیل میں موجود تصویر پوسٹ کرتے ہوئے ساتھ لکھا ہے کہ ’چہرے پر زخم سجائے ہوئے پولیس اسٹیشن میں سلاخوں کے پیچھے پابند یہ بزرگ کوئی پیشہ ور مجرم نہیں ہیں نہ ہی انہوں نے ملک کا پیسہ لوٹا ہے اورنہ ہی یہ کسی غیر اخلاقی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یہ پیشے کے اعتبار سے معلم ہیں اور انہوں نے قائد اعظم یونیورسٹی سے فزکس میں ڈاکٹریٹ کر رکھی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر نے آج جہلم ویلی (ہٹیاں بالا آزادکشمیر)کے ڈی سی صاحب کے دفتر میں جاکر پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی کیخلاف درخواست دی اور احتجاج کیا اورشاید بزرگ غصے میں کچھ تلخی بھی کر گئے ہوں گے جس پر ڈی سی صاحب نے پولیس کے ذریعے اس عظیم استاد پر خوفناک تشدد کروا کر انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔

پوسٹ میں مزید لکھا گیا کہ جس معاشرے میں استاد اور وہ بھی ایک پی ایچ ڈی استاد کی یہ عزت ہواس درندوں کی زمین پر بارشیں نہ ہونا،خشک سالی ہونااوروباوں کا پھوٹ جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔

پوسٹ کے مطابق ہمیں افسوس ہے اس قانون پر جس کی زد میں ہمیشہ کمزور آتے ہیں اور جانوروں سے بدتر عتاب کا شکار ہوتے ہیں خطے بھر کے طلبہ اور اساتذہ کو اس بیہمانہ اقدام کے خلاف یک زبان ہو کر اٹھنا ہو گا وگرنہ یہ رسم چل نکلی تو کوئی بھی نہیں بچے گا‘۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close