قومی

سندھ ہائی کورٹ کا آرزو فاطمہ کو بازیاب کراکے دارالامان بھیجنے کا حکم

کراچی (94 نیوز) سندھ ہائی کورٹ نے پسند کی شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کو بازیاب کراکے دارالامان بھیجنے کا حکم دیدیا،عدالت کا لڑکی کوآئندہ سماعت پر پیش کرنے کاحکم دیتے ہوئے آئی جی سندھ اور دیگر کو5 نومبر کیلئے نوٹسز جاری کردیئے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں پسند کی شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کیس کی سماعت ہوئی،ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہاکہ پولیس نے لڑکی کوتلاش کیا مگر کہیں نہیں ملی ،وکیل والدین نے کہاکہ لڑکی کو بازیاب کروا کے طبی معائنے کاحکم دیاجائے ۔

 جسٹس امجد سہتو نے کہاکہ ہم قانون کے مطابق چلیں گے عدالت جذباتی نہیں ہوتی، یہاں قانون موجود ہے کوئی کم عمری کی شادی نہیں ہوسکتی، اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی ہوگی تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، عدالت نے کہاکہ پہلے لڑکی بازیاب ہوجائے پھر میڈیکل کا حکم دے سکتے ہیں، لڑکی کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیا جائے، لڑکی کی بازیابی کے بعد دیگر امور کا جائزہ لیا جائے گا ۔

یاد رہے آرزو فاطمہ کے والدین نے الزام عائد کیا تھا کہ انکی بیٹی کو گزشتہ دنوں اغوا کرکے زبردستی شادی کرلی گئی اور اسکا زبردستی مذہب بھی تبدیل کروایا گیا۔ آرزو کی عمر 13 سال ہے اور اسکا تعلق مسیحی خاندان کیساتھ ہے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close