قومی

رجسٹرار تو مجھ سے بھی زیادہ طاقتور ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس

اسلام آباد (94 نیوز) سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مقدمات سماعت کیلئے مقرر کرنے کے طریقہ کار کا نوٹس لیتے ہوئے رجسٹر ار کو طلب کر لیا۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لگتاہے کہ ایک رجسٹرار تو میرے جیسے جج سے بھی زیادہ طاقتور ہے، میں 2010 کے کیس نہیں سن سکتا، کیونکہ رجسٹرار سماعت کیلئے مقرر کرتاہے ۔

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں سپریم کورٹ کا جج ہوں، پانچ سال تک چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ بھی رہ چکاہوں، ہم چاہتے ہیں شفافیت ہونی چاہیے ، اگر رجسٹررار کیس ایک دوسرے بینچ میں لگا دے تو شفافیت کیسے ہوگی ، لگتاہے کہ ایک رجسٹرار تو میرے جیسے جج سے بھی زیادہ طاقتور ہے ، میں 2010 کے کیس نہیں سن سکتا، کیونکہ رجسٹرار سماعت کیلئے مقرر کرتاہے ، کیا میں فون کر کے رجسٹرار کو کہہ سکتاہوں فلاں کیس فلاں بینچ میں لگا دو ؟ رجسٹرار نے بتایا کہ چیف جسٹس پاکستان کی منظوری سے ہی مقدمات سماعت کیلئے مقررہوتے ہیں، جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیئے کہ سوال یہ ہے کہ بینچ میں جسٹس حسن رضوی تھے ، بینچ کیوں تبدیل ہوا؟ کیس فکس کرنے کا کیا طریقہ کارہے ،سابق صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ نے کہا کہ لوگ پوچھ پوچھ کر تھک گئے ہیں، لیکن ہمارے کیسز نہیں لگتے، جسٹس فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مقدمات مقرر کرنے کیا کیا پالیسی ہے ؟ عدالت نے دو اپریل 2022 کو رجسٹرار کو حکم دیا تھا مقدمات مقرر کرنے کا طریقہ طے ہو، رجسٹرار آفس میں مقدمات فکس کرنے سے متعلق شفافیت نام کی کوئی چیز نہیں ہے ،سپریم کورٹ میں مقدمات کی سماعت کا کیا طریقہ کارہے ؟ جسٹس فائزی عیسٰی نے نوٹس لیتے ہوئے رجسٹرار کو تمام ریکارڈ سمیت طلب کر لیاہے ۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج صبح سماعت شروع کی تو بینچ کے جج کو تبدیل کر دیا گیا، جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے بینچ میں سال 2021 کے کیسز کیوں لگائے جاتے ہین، کئی سال پرانے کیسز چھوڑ کر نئے کیوں لگائے جارہے ہیں، میرے دو رکنی بینچ کو کیوں تبدیل کیا گیا۔ گزشتہ روز کی لسٹ میں جسٹس حسن اظہر رضوی شامل تھے لیکن جب آج سماعت شروع ہوئی تو بینچ کو تبدیل کرتے ہوئے جسٹس یحییٰ آفریدی کو شامل کر دیا گیا۔ جسٹس فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ میں لوگوں کو کیا جواب دوں گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button