قومی

ذیشان دہشتگرد ثابت ہو گا,آپریشن کے طریقہ کار کو غلط قرار دیا جائے گا: محکمہ داخلہ پنجاب

اسلام آباد (94نیوز) محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ سانحہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں قتل کیا جانے والا شخص ذیشان دہشتگرد ثابت ہو گا۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ہوم ڈیپارٹمنٹپنجاب کی جانب سے سانحہ ساہیوال پر بریفنگ دی گئی اور جے آئی ٹی کی رپورٹ پیش کی گئی جسے شرکا نے غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔جے آئی ٹی کی کی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اجلاس کے شرکا نے جے آئی ٹی کا خاتمہ کرنے اور سانحہ ساہیوال کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔ ایڈیشنل ہوم سیکرٹری فضیل اصغر نے جے آئی ٹی رپورٹ کا نتیجہ کمیٹی کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ رپورٹ ابھی تک مکمل نہیں ہوئی تاہم یہ واضح ہے کہ خلیل اور اس کی فیملی بے گناہ تھی۔

انہوں نے کہا کہ ذیشان دہشتگرد ثابت ہوگا ، آپریشن کے کنڈکٹ کو غلط قرار دیا جائے گا جبکہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی تجویز پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بات تو ثابت شدہ ہے کہ ذیشان کے دہشتگردوں کے ساتھ روابط تھے ۔انہوں نے تسلیم کیا کہ کارروائی کا طریقہ درست نہیں تھا۔ کمیٹی نےگاڑی میں خودکُش جیکٹس کی موجودگی کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بریفنگ سے تشویش میں اضافہ ہوا ، فائرنگ کرنے والوں کو خودکُش جیکٹ کی موجودگی کا خدشہ ہوتا تو کبھی چار فٹ سے گولیاں نہ چلاتے ۔اس حوالے سے سینیٹر عثمان کاکڑ نے سی ٹی ڈی کے اب تک کیے گئے تمام آپریشنز پر پارلیمانی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ سی ٹی ڈی کے تمام آپریشنز اور کارروائیوں پر پارلیمانی کمشین قائم کر کے تحقیقات کی جائیں۔واضح رہے کہ سانحہ ساہیوال کے متاثرہ خاندان کے ساتھ ساتھ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ بھی سانحہ ساہیوال پر تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کرچکی ہے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close