کالم

داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ، عالمی بینک نے پاکستان کو 1 ارب ڈالر قرضہ کی منظوری دے دی

چین کے تعاون سے داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بجلی کی پیداوار کا سب سے بڑا قومی منصوبہ ہے

94 نیوز، تجزیاتی رپورٹ ( طارق محمود جہانگیری کامریڈ) ذرائع کی مصدقہ اطلاعات و تفصیلات کے مطابق ورلڈ بنک نے پاکستان کے داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 1 ارب ڈالر قرض کی منظوری دے دی ھے ۔ عالمی بینک کے جاری کردہ اعلامیےکے مطابق یہ قرض کی رقم داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے استعمال ہو گی۔ پیپکو انجینئرنگ کے ایگزیکٹیو انجینئرز کے مطابق اس رقم سے پن بجلی کی سپلائی میں بھی اضافہ ہو گا۔ عالمی بنک کے فنڈز داسو ہائیڈرو منصوبے کے فیز ون پر خرچ کیے جائیں گے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے ماھرین کا کہنا ہے کہ داسو ہائیڈرو منصوبہ پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ اس منصوبے سے پاکستان میں سستی بجلی پیدا ہو سکے گی۔ واضح رہے کہ بجلی کی پیداوار کا سب سے سستا طریقہ ھائیڈرل پاور جنریشن یعنی پانی سے بجلی کی تیاری ہے۔ اس طریقے سے سستی بجلی حاصل کرنے کے لیے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کیے جاتے ہیں۔ نیسپاک کے کنسلٹنٹ انجینئرز کی اطلاع کے مطابق ملک میں اس وقت 3 بڑے منصوبوں دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم اور داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر کام جاری ہے۔ پیپکو انجینئرنگ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بالائی کوہستان میں چین کے تعاون سے زیرِ تعمیر داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بجلی کی پیداوار کا سب سے بڑا قومی منصوبہ ہے۔ جس کے دونوں مراحل کی تکمیل کے بعد 4320 سے 5400 میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس منصوبے کو مالی سال 24-2023ء میں مکمل ہونا تھا لیکن زمین کے حصول میں رکاوٹوں، کورونا کی وباء کے باعث کام بند ہو جانے کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ اور اب اس کی تکمیل 27-2026ء میں متوقع ہے۔ ھمارے ایک سینئر الیکٹریکل انجینیر کا کہنا ہے کہ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے دریائے سندھ کا رخ موڑے جانے کے سلسلے میں کامیابی حاصل کرلی گئی ہے ۔ یہ اہم سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ اب دریائے سندھ قدرتی گزر گاہ کے بجائے ڈائیورژن ٹنل سے گزر رہا ہے۔ ڈی اینڈ ڈی کے کنسلٹنٹ انجینئرز کا کہنا ہے کہ۔عارضی ڈیم ( کوفر ڈیم )مکمل ہونے پر اصل ڈیم کی تعمیر شروع ہوجائے گی جبکہ پروجیکٹ کی دوسری ڈائیورژن ٹنل مکمل ہونے پر دریائے سندھ دونوں ڈائیورژن سے گزرے گا۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے سے بجلی کی پیداوار 2026 میں شروع ہو جائے گی۔ لاھور سے تعلق رکھنے والے ایک وفاقی وزیر نے ایک غیر رسمی گفتگو کے دوران بتلایا ہے کہ ورلڈ بینک داسو پراجیکٹ کیلئے 460 ملین ڈالرز کی کریڈٹ گارنٹی بھی دے رہا ہے۔ واپڈا ھاؤس لاھور کے اعلی افسر اور سینئر انجینئر کا کہنا ہے کہ واپڈا اس وقت 26 ارب ڈالرز کے 8 بڑے منصوبے تعمیر کر رہا ہے۔ واپڈا نے ان منصوبوں کی تعمیر کے لے مالی حکمتِ عملی بھی ترتیب دی ہے۔ جبکہ ترجمان واپڈا کے مطابق ورلڈ بینک پہلے ہی داسو پراجیکٹ کے لیے 588 ملین ڈالرز قرض فراہم کر رہا ہے۔ ورلڈ بینک داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 460 ملین ڈالرز کی کریڈٹ گارنٹی بھی فراہم کر رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ واپڈا کے زیرِ تعمیر منصوبے اگلے 5 سال میں مرحلہ وار مکمل ہوں گے۔ واپڈا کے حوالے سے یہ اطلاعات بھی ہیں کہ منصوبوں کی تکمیل پر 9.7 ملین ایکڑ فٹ مزید پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔

منصوبوں کی تکمیل سے واپڈا پن بجلی کی پیداوار بھی دو گنا ہو کر 20 ہزار میگا واٹ ہو جائے گی۔ داسو پراجیکٹ سے بجلی کی پیداوار 2026 میں شروع ہو جائے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں پانی کے منصوبوں کیلے 206 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور کیا گیا ہے ۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ آئندہ بجٹ میں پانی کے منصوبوں کیلے 206 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ منظور کیا گیا ہے۔ حالیہ اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے دوران جولائی سے مارچ تک 92 ارب 9 یونٹ بجلی پیدا کی گئی۔ جبکہ اس دوران 68 ارب 55 کروڑ یونٹ بجلی استعمال ہوئی ھے اگر یہ سروے رپورٹ حقائق پر مبنی ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ باقی 23 ارب 54 کروڑ یونٹ بجلی کہاں گئی ھے۔ کہاں کر خرچ کی گئی ہے ۔ کیا یہ مفت یونٹس استمعال کرنے والی اشرافیہ نے خرچ کی ھے۔ اکنامک سروے میں اسکا اھم ترین نکتہ کا ذکر کیوں نہیں گیا ھے ۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی طرف سے جاری کردہ اقتصادی سروے 24-2023 کے مطابق رواں مالی سال پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت گر گئی۔ اس اقتصادی سروے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مارچ 2024 تک سولرنیٹ میٹرنگ صارفین کی تعداد1 لاکھ 17ہزار 807 رہی۔

نوٹ: ادارہ کا کالم نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button