کالم

حکیم سلطان احمد داؤدی، چراغ جلا کر چلے گئے

تحریر: حامد سلطان دائودی
94 نیوز۔۔۔ کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں، جو زندگی میں آنا ضروری ہوتے ہیں۔اور وہی لمحات انسانی ذہین پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ بات حقیقت ہے کہ زندگی انسان سے بہت سے امتحان لیتی ہے لیکن ان میں سب سے سخت امتحان ماں باپ کی شفقت سے محروم ہونا ہے۔ جب بھی کوئی قیمتی چیز گم ہو جاتی ہے تو انسان اس کا نعم البدل تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن جب ماں باپ چلے جاتے ہیں تو ان انسان بے بس ہو جاتا ہے کوشش کے باوجود دل کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے کیوں کہ یہ وہ ہستیاں ہوتی ہیں جن کا نعم البدل کوئی نہیں اور جن کو ڈھونڈا نہیں جاسکتا اورنہ ہی دوبارہ مل سکتی ہیں۔ ماں باپ کے رخصت ہو جانے کے بعد ایک شخص کی زندگی کی خوشیاں رونقیں وہ نہیں رہتیں جو ماں باپ کی زندگی میں ہوتی ہیں۔ واقعات اور دنیا کی گردش دوراں انسان سے بہت کچھ چھین لیتی ہے، نظام قدرت ہے کہ انسان کو درد اسی وقت ہوتی ہے جب اسے چوٹ لگ جاتی ہے، اور درد اسی کو ہوتی ہے ، جس کو چوٹ لگتی ہے، اور پھر یہ درد اس وقت تک باقی رہتی ہے، جب تک انسان زندہ رہتا ہے باقی رہنے والی درد میں سب سے بڑا خلا باپ کا دنیا سے رخصت ہونا ہے۔ 28 اگست 2008 ایک ایسا ہی دن تھا جس دن میرے والد اس دنیا سے رخصت ہو گئے، اور اس کے ساتھ ہی میرے لیئے سختیوں کا دور شروع ہوا۔
میرے والد تقسیم ہند کے بعد امرتسر بھارت سے پاکستان آئے تھے، وہ قیام پاکستان کے لیئے کئی برس سخت جدو جہد کرتے رہے ۔ پاکستان آنے کے بعد میں نے ان کو اس ملک میں آباد ہونے کے لیئے انہوں نے جو جدوجہد کی وہ میری زندگی کی تلخ انمٹ یادیں ہیں ، پاکستان کیا ہے اور قربانی کیا ہے یہ وہی لوگ جانتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے ساتھ محبت کی جنگ لڑی ہو،جوں جوں وقت گذرتا جا رہا ہے وہ تمام لوگ جنہوں نے آزاد وطن کے لیئے اپنی زندگیاں صرف کر دیں ان کی خدمات نظروں سے اوجھل ہوتی جا رہی ہیں، میں اکثر اس بات کا تذکرہ کرتا ہوں کہ مملکت خداداد پاکستان میں کسی بھی حکومت نے گوارا نہیں کیا کہ عملی طور پر ہجرت پاکستان کے مناظر کی عکس بندی کی جائے۔
میرے والد صحیح معنوں میں ایک سماجی درویش تھے جنہوں نے آزادی وطن اور تعمیر وطن کے محاذ پر زندگی لگا دی۔ جب میں ان کی زندگی کی یادوں کی طرف دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے تو ان کی دی گئی رہنمائی کہ اچھا دوست، اچھی زبان، رزق حلال، خوش اخلاقی، والدین اور ارد گرد کے عزیزوں کی دعا سب سے بڑی تربیت ہے جن کی بدولت آج میری زندگی میں ایک برکت ہے، بچپن، نوعمری، بڑھاپے تک ان کی لگن ایک طاقتور پاکستان رہی، انہوں نے جب سن 1938کے دوران ہونے والی مردم شماری کے لیئے ایک مو ثر تحریک چلائی کہ زیادہ سے زیادہ مسلمان اپنا اندراج کروائیں تاکہ الیکشن کے دوران ہونے والی ووٹننگ کے دوران مسلمانوں کی عددی پوزیشن بڑھے تو انہیں ہندؤں کی مذاہمت پر 27ماہ کے لیئے پابند سلاسل ہونا پڑا، وہ فساد زدہ علاقہ امرتسر میں 16 اگست تک چھپے رہے اور انتہائی پریشان کن حالات کا مقابلہ کرکے پاکستان پہنچے۔
نو عمری ہی سے وہ قائد اعظم والی جناح کیپ، سفید شلوار، قمیض، پہنتے تھے، جب کہ ان کی جسمانی مشابہت بھی قائد اعظم جیسی تھی۔ ممتاز روحانی بزرگ بابا جی سرکار صوفی برکت علی رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ ان کا تعلق 1968کی دھائی میں دارالاحسان سانگلہ ہل میں قائم ہوا جو مرتے دم تک رہا، ان کے انتقال پر ان کا جنازہ ان کے پوتے اور نواسوں نے اٹھا کر قبرستان تک پہنچایا، بابا جی نے اپنے مرکز کو چلانے کے لیئے جو کمیٹی بنائی تھی اس میں وہ شامل تھے، باباجی نے 1982 کی دہائی میں ایک کمیٹی بنائی جس کا انچارج ابا جان کو بنایا، اس کمیٹی کا مقصد جگھی نشیں گگڑوں کو دائرہ اسلام میں لانا تھا، الحمد للہ اس ٹیم کو یہ شرف حاصل ہوا کہ انہوں نے ایک لاکھ گگڑوں کو محدود مدت میں مسلمان کیا، انہیں تہذیبی زندگی کی طرف تعلیم کے ذریعے مائیل کیا اور جھگیوں سے نکال کر ان کے لیئے رہائشی کالونیاں بنوا کر انہیں وہاں آباد کیا، اس سارے کام سے بابا جی اسقدر خوش تھے کہ انہوں نے ابا جان کو اپنے ہاتھوں سے انتہائی خوبصورت سرٹیفکیٹ اس تحریر کے ساتھ دیا کہ اللہ رب العزت نے ابا جان کو یہ شرف بخشا کہ ان کی سربراہی اور ٹیم کی محنت سے ایک لاکھ گگڑے دائرہ اسلام میں داخل ہوئے، گگڑوں کو تہذیب کے دائرہ میں لانے والے پراجیکٹ کو اقوام متحدہ کی طرف سے بھی بے حد سراہا گیا اور اس کام کو ایک رول ماڈل قرار دیتے ہوئے سن 2007میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون جب پاکستا ن آئے تو انہوں نے ان کو یو این اور کی طرف سے بنی نوع انسانی خدمت کو سراہتے ہوئے انہیں سماجی سائینسدان کے عالمی تہنیتی اعزازسے نوازا، میں نے اور میرے بڑے بھائی شوکت سلطان محمود، مجاہد سلطان، ہم نے 1970 کی دہائی میں گھریلو مالی ذمہ داریاں اٹھا لیں اور وہ سن 1973- 2007تک مسلسل چونتیس برس انجمن بہبودی مریضاں تنظیم جو محکمہ سماجی بہبود حکومت پنجاب کا پراجیکٹ تھا ، اس کے تحت سول ہسپتال میں روزانہ مریضوں کی تیمار داری کرتے رہے جب کہ نادار مریضوں کی ادویات کا بندوبست بھی کرتے،اس سارے کام کی ذمہ داری بھی صوفی برکت علی رحمتہ اللہ علیہ علیہ نے ابا جان کو سونپی تھی اور بابا جی کی یہ خواہش رہی کہ اس کام میں غفلت نہیں کرنی،ان کو زندگی میں ستارہ امتیاز ، تحریک پاکستان گولڈ میڈلست اعزاز کے ساتھ ساتھ سینکڑوں سرکاری اعزازات اور عہدے ملتے رہے لیکن انہوں نے سادگی سے زندگی گذار دی اور زندگی بھر خدمت انسانی کے چراغ روشن کیئے، جو آج بھی روشن ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button