قومی

حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن ہے

اسلام آباد (94 نیوز) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ حکومت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن ہے اور یہ ایک احسن فیصلہ ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبرنے کہا کہ آج ایک اہم دن تھا، سپریم کورٹ کا فیصلہ بہت اہم ہے۔ ہم سب کے دل میں عدالت کا احترام ہے۔ حکومت چاہتی ہے، پاکستان میں عدلیہ آزاد ہو۔

معاون خصوصی نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل واحد ادارہ ہے جو اعلیٰ عدلیہ سے متعلق تحقیقات کرسکتا ہے۔ آرٹیکل209کے تحت تین طریقوں سے جج سے متعلق سوال اٹھایا جاسکتا ہے۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص سپریم جوڈیشل کونسل کو معلومات دے سکتا ہے، دوسرا طریقہ ،یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے صدر مملکت ریفرنس بھیج سکتا ہے۔ تیسرا طریقہ یہ ہے کہ سپریم جو ڈیشل کونسل از خود نوٹس لے سکتی ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ حکومت بھی سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیج سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے مختصر فیصلے میں صدارتی ریفرنس کالعدم قراردیا۔ صدارتی ریفرنس ایک اطلاع کی صورت میں بھیجا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریفرنس کو سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیلنج کیا تھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس کو بھی عدالت نے کالعدم قرار دیا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ اب چیئرمین ایف بی آر کو 75 دن میں کمشنرانکم ٹیکس رپورٹ پیش کریں گے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کو نوٹس بھیجے جائیں گے۔ چیئرمین ایف بی آر پابند ہونگےکہ رپورٹ پردستخط کر کے سپریم جوڈیشل کونسل کوبھجوائیں گے۔ رپورٹ حکومت کونہیں سیدھی سپریم جوڈیشل کونسل کے سیکریٹری کوبھیجی جائیگی۔

انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل اس رپورٹ پر غور کرے گی۔ حکومت اس فیصلے سے مطمئن ہے، یہ ایک احسن فیصلہ ہے۔اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ ججز کے معاملات سپریم جوڈیشل کو دیکھنے چاہئیں۔ جو بھی رپورٹ ہوگی اس کو سپریم جوڈیشل کونسل دیکھے گی۔

معاون خصوصی شہزاد اکبرنے کہا یہ نہیں کہ کسی سوال کا جواب نہیں ہے۔ سوال کا جواب نہ دینے کا مقصد کسی بھی تنازع میں نہ پڑنا ہے۔ملک کے بڑے بڑے وکلا اس کیس میں تھے۔ ہماری خواہش ہے کہ اس مسئلے پر مزید بات نہ کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ فیصلے میں کہیں بھی اے آر یو کا ذکر نہیں ہے۔ یہ کسی کی جیت یاہار نہیں ہے۔ تفصیلی فیصلہ ہماری رہنمائی کرے گا۔ آج ایسا ماحول بنایا گیا کہ کسی کی جیت اور کسی کی ہار ہے۔ تحریری فیصلے میں کہیں بھی عدلیہ نے بدنیتی کا لفظ استعمال نہیں کیا۔

شہزاداکبر نے کہا کہ حکومت کیلئے عدلیہ کا وقاربہت مقدم ہے۔ حکومت چاہتی ہے پاکستان میں عدلیہ آزاد ہو۔ آئینی بالادستی کیلئے عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کا علیحدہ علیحدہ ہونا ضروری ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کسی بھی معاملے کی تحقیقات کرسکتاہے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close