قومی

حمزہ شہباز اور مونس الہیٰ کی خفیہ ملاقات

لاہور (94نیوز) سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ،چوہدری شجاعت حسین کے بھائی وجاہت حسین ،مونس الہیٰ اور طارق بشیر چیمہ کی گلبرگ میں ایک بیٹھک ہوئی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت نے ق لیگ کے مطالبات جب نہیں مانے اس کے بعد مونس الہیٰ اور حمزہ شہباز شریف کی خفیہ ملاقات ہوئی۔ مونس الہیٰ اور حمزہ شہباز کی سیاسی معاملات پر تفصیلی گفتگو کے لیے تین سے زائد ملاقاتیں ہوئیں۔حمزہ شہباز اور مونس الہیٰ کے مابین ملاقاتیں لاہور اور اسلام آباد میں ہوئیں۔ملاقات میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا کہ اگر ن لیگ اور ق لیگ متحد ہوجائیں اور ایک مسلم لیگ یونائیٹڈ بن جائے تو کیا ہم پنجاب حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

اگر ایسا ممکن ہو گیا تو پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ بن جائیں گے جب کہ سینئیر وزیر حمزہ شہباز بن جائیں گے اور اگر کوئی تحریک انصاف سے ہمارے ساتھ شامل ہو جائے تو اس کو اسپیکر پنجاب اسمبلی بنا دیں گے جب کہ کچھ وزارتیں پاکستان پیپلز پارٹی کو دے دیں گے۔تاہم چوہدری شجاعت حسین اس تمام بات پر قائل نہیں ہوئے۔چوہدری شجاعت حسین کا خیال ہے کہ اگر تحریک انصاف میں کوئی فاروڈ بلاک بن جائے تو ق لیگ اس کے ساتھ مل کے حکومت بنا لے تو وہ زیادہ موثر ہو گا بجائے اس کے کہ ن لیگ کے ساتھ حکومت بنائی جائے۔واضح رہے ق لیگ کو بھی حکومت سے کئی تحفظات ہیں جب کہ وزیراعظم عمران خان نے ق لیگ کے تحفظات دور کرنے کا ٹاسک وزیر اعلیٰ پنجاب کو دیا ہے تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، پرویز الہیٰ کو منانے میں ناکام رہے ہیں۔ پرویزالہٰی نے شکوہ کرتے ہوئے کہا اتحاد کے جو معاملات طے ہوئے تھے ان پر تاحال عمل نہیں ہوا، مرکز اور پنجاب میں 2، 2 وزارتیں طے ہوئی تھیں، جو معاہدے ہوتے ہیں ان پر عمل ہونا چاہیے۔جس پر عثمان بزدار نے جواب دیا کہ یہ تو میرے علم میں ہی نہیں تھا، وزیراعظم سے بات کرونگا۔سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی نے عثمان بزدار سے کہا آپ کے والد سے میرے ذاتی تعلقات تھے، لیکن پھر بھی معاملات صحیح طرح نہیں چل رہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا پوسٹنگ ٹرانسفر اور انتظامی کام فوری ہوں گے۔ پرویز الہٰی نے جواب دیا پوسٹنگ ٹرانسفر کوئی ایشو نہیں۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close