جھگڑا نہیں، اخلاق اور آگاہی ہی ٹریفک مسائل کا حقیقی حل ہے


جھگڑا نہیں، اخلاق اور آگاہی ہی ٹریفک مسائل کا حقیقی حل ہے
تحریر: میاں ندیم احمد
ریاست کی طاقت اس کے اسلحے، گاڑیوں، وردیوں یا اختیارات سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے پہچانی جاتی ہے۔ جب یہ اعتماد ٹوٹنے لگے تو قانون کی گرفت مضبوط ہونے کے باوجود معاشرہ کمزور ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے آج پاکستان میں کئی سرکاری اداروں کی طرح ٹریفک پولیس بھی عوامی اعتماد کے ایک مشکل امتحان سے گزر رہی ہے۔ آئے روز سڑکوں پر ٹریفک اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان تلخ کلامی، دھکم پیل، ہاتھا پائی اور ویڈیوز کا سوشل میڈیا پر وائرل ہونا ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ قصوروار کون ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ رویے کسی مسئلے کا حل ہیں؟
جو اہلکار عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کھڑے کیے گئے ہوں، اگر وہی عوام سے الجھنے لگیں تو قانون کا رعب نہیں، نفرت جنم لیتی ہے۔ قانون کا نفاذ آواز بلند کرنے سے نہیں بلکہ کردار بلند کرنے سے ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض اہلکار یہ بھول جاتے ہیں کہ وردی اختیار ضرور دیتی ہے، برتری نہیں۔ شہری کو مجرم سمجھ کر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار انسان سمجھ کر مخاطب کیا جائے تو آدھے مسائل وہیں ختم ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی معمول بنتی جا رہی ہے۔ سگنل توڑنا، ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانا، اوور اسپیڈنگ، ون وے کی خلاف ورزی، غلط پارکنگ اور دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال روزمرہ کا منظر ہے۔ ایسے افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، ضرور ہونی چاہیے، اور بلا امتیاز ہونی چاہیے۔ مگر کارروائی انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہو، کسی ٹارگٹ یا دباؤ کے تحت نہیں۔
افسوس یہ ہے کہ عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ حکومت نے بیشتر محکموں کو عوامی خدمت کے بجائے ریونیو اکٹھا کرنے والی مشینوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہر محکمہ اپنے اپنے اہداف پورے کرنے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ اگر ٹریفک پولیس بھی اسی سوچ کے تحت صرف چالانوں کی تعداد بڑھانے کو کامیابی سمجھے گی تو پھر عوام اسے محافظ نہیں بلکہ محصول وصول کرنے والا ادارہ سمجھنے لگیں گے۔ یہ تاثر اگر مزید گہرا ہوا تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہوں گے، کیونکہ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کبھی بھی کسی معاشرے کے حق میں اچھے ثابت نہیں ہوتے۔
یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک چالان چند ہزار روپے کا ہو سکتا ہے، مگر ایک غلط رویہ عوام کے دلوں میں برسوں کی نفرت پیدا کر دیتا ہے۔ ایک سخت جملہ، ایک بے جا تذلیل اور ایک غیر مناسب انداز پورے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا دیتا ہے۔ اس لیے آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹریفک پولیس کی پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ اہلکاروں کو یہ سکھایا جائے کہ غصے میں کھڑا شہری دشمن نہیں بلکہ ریاست کا شہری ہے، جس سے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عزت کے ساتھ بات کرنا بھی ڈیوٹی کا حصہ ہے۔

یہ کہنا بھی ناانصافی ہوگی کہ پورا محکمہ ایک جیسا ہے۔ فیصل آباد میں چیف ٹریفک آفیسر ناصر جاوید رانا کی کارکردگی اس کی ایک مثبت مثال ہے۔ انہوں نے چالان سے زیادہ شعور پر توجہ دی ہے۔ ایجوکیشن ونگ کو فعال بنایا، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، مارکیٹوں اور مختلف اداروں میں ٹریفک آگاہی سیمینارز منعقد کروائے اور شہریوں کو قانون کی اہمیت سمجھانے کی عملی کوشش کی۔ یہی وہ سوچ ہے جو ایک ذمہ دار افسر کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ قانون کی اصل کامیابی جرمانوں کی تعداد میں نہیں بلکہ خلاف ورزیوں میں کمی سے ناپی جاتی ہے۔

اسی طرح سی ٹی او فیصل آباد کے پبلک ریلیشنز آفیسر اسماعیل رانا بھی ان پولیس افسران میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے میڈیا کے ساتھ خوش اخلاقی، شائستگی اور پیشہ ورانہ تعلقات کو فروغ دیا۔ میڈیا اور پولیس کے درمیان اعتماد کا رشتہ عوام تک درست معلومات پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب ترجمان باوقار انداز میں مؤقف پیش کرے تو نہ صرف ادارے کا وقار بڑھتا ہے بلکہ عوام تک ٹریفک آگاہی مہمات بھی مؤثر انداز میں پہنچتی ہیں۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھنا ہوگا۔ عوام بھی ہر غلطی کے بعد اہلکار سے الجھنے کو اپنا حق نہ سمجھیں۔ اگر آپ نے واقعی خلاف ورزی کی ہے تو قانون کا احترام کریں۔ اگر آپ کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو سڑک پر لڑنے کے بجائے متعلقہ افسران، خصوصاً چیف ٹریفک آفیسر کو تحریری شکایت دیں۔ مہذب قومیں عدالتوں، دفاتر اور قانون سے انصاف لیتی ہیں، سڑکوں پر چیخ و پکار سے نہیں۔
یاد رکھیے، حادثات کبھی عمر نہیں دیکھتے۔ وہ یہ نہیں پوچھتے کہ آپ نوجوان ہیں یا بزرگ، امیر ہیں یا غریب، سرکاری ملازم ہیں یا مزدور۔ ایک لمحے کی لاپرواہی پوری زندگی کی خوشیاں چھین سکتی ہے۔ ہوسکتا ہے آپ اپنے خاندان کے واحد کفیل ہوں، آپ کے بچے آپ کے منتظر ہوں، آپ کے بوڑھے والدین آپ کی واپسی کی دعا کرتے ہوں۔ چند سیکنڈ کی جلد بازی، ایک سرخ اشارے کی خلاف ورزی یا بغیر ہیلمٹ کے سفر صرف آپ کی نہیں بلکہ پورے خاندان کی زندگی بدل سکتا ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف چالانوں کی تعداد پر فخر کرنا چھوڑ دیں اور محفوظ سڑکوں کی تعداد بڑھانے پر توجہ دیں۔ پولیس اپنا لہجہ بدلے، عوام اپنا رویہ بدلیں اور حکومت اپنے اداروں کو صرف ریونیو اکٹھا کرنے کے بجائے عوامی خدمت کا حقیقی مرکز بنائے۔ ریاست اور شہری ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ اگر ایک بھی پنکچر ہو جائے تو سفر رک جاتا ہے۔
آخر میں صرف ایک سوال…
کیا ہم ایسی ٹریفک چاہتے ہیں جہاں ہر موڑ پر خوف کھڑا ہو، یا ایسا نظام جہاں ہر چوک پر قانون بھی نظر آئے اور اخلاق بھی؟
فیصلہ ریاست کو بھی کرنا ہے اور عوام کو بھی۔

