قومی

جو لوگ اپنے شہروں سے ہار گئے ان کو ہمارے اوپر مسلط نہ کیا جائے اور حلقے کے کسی اور آدمی کو ٹکٹ دیا جائے،بینرز کی تحریر کا متن

لاہور سے الیکشن لڑنے پر عابد شیر علی کے خلاف بینر لگ گئے

لاہور:لاہور سے الیکشن لڑنے پر عابد شیر علیکے خلاف بینر لگ گئے۔۔عابد شیر علی کے خلاف لگے بینرز پر لکھا گیا ہے کہ جو لوگ اپنے شہروں سے ہار گئے ان کو ہمارے اوپر مسلط نہ کیا جائے اور حلقے کے کسی اور آدمی کو ٹکٹ دیا جائے۔تفصیلات کے مطابق عام انتخابات 2018ء کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق این اے 108 میں مسلم لیگ ن کے رہنما عابد شیر علی کو شکست ہو گئی تھی جبکہ پی ٹی آئی اُمیدوار فرخ حبیب کامیاب ٹھہرے تھے ۔فرخ حبیب نے این اے108 میں ایک لاکھ 12 ہزار 740 ووٹ حاصل کر کے کامیابی سمیٹی جبکہ عابد شیر علی ایک لاکھ 11 ہزار 529 ووٹ حاصل کر سکے۔اس کے بعد عابد شیر علینے فیصل آباد میں بھی عابد شیر علی نے دوبارہ ووٹوں کی گنتی کے لیے درخواست دے دی۔

بار بار ہار جانے کے باوجود لاہور ہائیکورٹ تک گئے مگر عابد شیر علی کامیاب نہ ہو سکے۔۔لاہور ہائیکورٹ میں عابد شیر علی کی جانب سے دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی درخواست مسترد کر دی گئی۔

لاہور ہائیکورٹ نے عابد شیر علی کی درخواست مسترد کردی،جس کے بعد این اے 108 سے فرخ حبیب کامیاب قرارپا گئے ۔پھر یہ بھی خبرآگئی کہ عابد شیر علیایک بار پھر قومی اسمبلی کا حصہ بننے کے لیے پر مارنے لگے تھے۔۔عابد شیر علی نے حمزہ شہباز شریف کی چھوڑی ہوئی نشست این اے 124 سے انتخابی اکھاڑے میں اترنے کا فیصلہ کیا تھا۔لیگی رہنما عابد شیر علی نے این اے 124 لاہور سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے تھے۔تاہم اب اس حلقے میں عابد شیر علی کے خلاف بڑی بغاوت ہو گئی ہے۔

حلقے کے کارکنان نے عابد شیر علی کے خلاف بینر آوایزاں ہیں جن پر لکھا ہے کہ جو لوگ اپنے شہروں سے ہار گئے ان ہکو ہمارے اوپر مسلط نہ کیا جائے اور حلقے کے کسی اور آدمی کو ٹکٹ دیا جائے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حالات ایسے ہی ہوئے تو پارٹی کے اراکین کا ایک گروہ الیکشن میں بغاوت کر سکتا ہے اور اسکا فائدہ پاکستا تحریک انصاف کے امیدوار کو ہوگا اور یوں مسلم لیگ ن اس نشست کو بھی گنوا سکتی ہے۔واضح ہو پی ٹی آئی کے نعمان قیصر اور محمد خان مدنی نے بھی اس حلقے سے کاغذات نامزدگی حاصل کئیے تھے۔ یاد رہے کہ ضمنی الیکشن کے لیے 4 ستمبر کو یعنی آج کاغذات نامزدگی کی سکروٹنی ہوئی جبکہ 15 ستمبر تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے۔ 16 ستمبر کو امیدواروں کو نشانات الاٹ کیے جائیں گے اور 14 اکتوبر کو لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close