قومی

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ کا ٹیکس ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا گیا

اسلام آباد (94 نیوز) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا ٹیکس ریکارڈ سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرا دیا۔

صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی آئینی درخواست کی سپریم کورٹ میں آج پھر سماعت ہوئی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے بھی دستاویز عدالتِ عظمیٰ میں پیش کیں اور جوابی دلائل کا آغاز کر دیا۔
منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ افتخار چوہدری کیس میں سپریم جوڈیشل کونسل پر بدنیتی کے الزامات تھے۔انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے بدنیتی پر کوئی فیصلہ نہیں دیا تھا، توقع ہے کہ مجھے جوڈیشل کونسل کی بدنیتی پر بات نہیں کرنی پڑے گی۔

منیر اے ملک کا کہنا ہے کہ آج ساڑھے 10 بجے تک دلائل مکمل کر لوں گا، سمجھ نہیں آ رہی حکومت کا اصل میں کیس ہے کیا؟ فروغ نسیم نے کہا تھا کہ ان کا اصل کیس وہ نہیں جو ریفرنس میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی جج جسٹس جبرالٹر کی اہلیہ کے خط اور ان کی برطرفی کا حوالہ دیا گیا، جسٹس جبرالٹر نے خود کو اہلیہ کی مہم کے ساتھ منسلک کیا تھا۔

منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کبھی اہلیہ کی جائیدادیں خود سے منسوب نہیں کیں، الیکشن اور نیب قوانین میں شوہر اہلیہ کے اثاثوں پر جواب دہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فروغ نسیم نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ آنے میں دیر کر دی، بد قسمتی سے فروغ نسیم غلط بس میں سوار ہو گئے ہیں۔

منیر اے ملک کا کہنا ہے کہ حکومت ایف بی آر جانے کے بجائے سپریم جوڈیشل کونسل آ گئی، ایف بی آر اپنا کام کرے ہم نے کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی اور عدلیہ کی عزت کی خاطر ریفرنس چیلنج کیا، چاہتے ہیں کہ عدلیہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دے۔

منیر اے ملک نے اپنے دلائل میں کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے احکامات اور شوکاز نوٹس میں فرق ہے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close