قومی

تقریریں کرنے سےنہ ملک آزادہوتے،نہ ہی ظلم وستم کی داستان بند ہوتی ہے

لاہور (94 نیوز) سئنیرتجزیہ کارعارف حمید بھٹٰی کا کہنا ہے کہ تقریریں کرنے سے ملک آزاد نہیں ہوتےاور نہ ہی کوئی ظلم وستم کی داستان بند ہوتی ہے،

نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی تقریروں سے 4 حلقے نہیں کھلے تھے 180 دن کا دھرنا بے سود رہا تھا تو یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے گا جو کہ کئی دہا ئیوں سے سے ایک عالمی مسئلہ بنا ہوا ہے، انہوں نے مزید کہا آر ایس ایس کے غنڈے بھارت میں 80ہزار مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کر رہےہیں، او ر مسلمان بچیوں کی عزت سے کھیل رہے ہیں۔ اور ہم یہاں تقریریں کر رہے ہیں ، تقریریں کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا ، کوئی عملی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر غیرقانونی قبضہ ہے۔ بھارت دنیا میں اسلامو فوبیا کو فروغ دے رہا ہے، انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس نے بابری مسجد کو شہید کیا۔ بھارت نے کشمیری قیادت کو پابند سلاسل کردیا ہے۔ کشمیریوں کو محصور کرنے کے لیے اضافی فوج کو تعینات کیا گیا۔ فاشسٹ بھارتی حکومت کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں، تنازعات بڑھیں تو شدت اختیار کر جاتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں فوجی قبضے سے حق خودارادیت کو دبایا جاتا ہے، شہریوں کو حقوق دینے کیلئے امن کی ضرورت ہے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close