قومی

تعلیمی بورڈ میں نہم جماعت کی رجسٹریشن کیلئے "ب فارم” لازمی قرار،پابندی بلا جواز ہے،جائنٹ ایکشن کمیٹی

"ب فارم" کی پابندی سے لاکھوں طلباء و طالبات رجسٹریشن سے محروم رہ جایئں گے، جائنٹ ایکشن کمیٹی

فیصل آباد (94نیوز) ایک طرف حکومت ملک میں تعلیم عام کرنے کے دعوے کررہی ہے اور فروغ تعلیم کے لئے نعرے لگا رہی ہے دوسری طرف تعلیمی بورڈ فیصل آباد نے اچانک نہم کلاس میں رجسٹریشن کے لئے "ب فارم”  لازمی قرار دیدیا جس سے لاکھوں طلباء و طالبات اور والدین میں بے چینی پھیل گئی ہے۔

ادھر تعلیمی بورڈز نےجماعت نہم میں رجسٹریشن کیلئے 15 مئی آخری تاریخ مقرر کررکھی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اکثر پرایئویٹ اور سرکاری تعلیمی اداروں کے لاکھوں طلباء و طالبات نے  ب فارم نہیں بنوایا ہے۔  تمام طلباء و طالبات کو "ب فارم” بنوانے میں بہت زیادہ وقت درکار ہے۔ اسی حوالے سے نجی تعلیمی اداروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کے سربراہان کنوینئر جائنٹ ایکشن کمیٹی و مرکزی صدر آل پاکستان پرایئویٹ سکولز الائنس فاؤنڈرز میاں ندیم احمد، شیخ محمد نسیم صدر پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن، اسد بشیر گل جنرل سیکرٹری کونسل آف پرائیویٹ سکولز، چوہدری محمد طاہر صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز یونٹی، مبشر اقبال ڈویژنل صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن، رانا شاہد مقر صدر پرائیویٹ سکولز فورم پنجاب، رانا طاہر سلیم خاں سیکرٹری جنرل آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اونرز ایسوسی ایشن نے  حکومت پنجاب اور تعلیمی بورڈ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جماعت نہم میں رجسٹریشن کیلئے "فارم ب” کی شرط  فی الفور ختم کی جائے اور رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کی جائے، انہوں نے کہا کہ ایسی شرائط فوری نافذ کرنا ناقابل عمل ہے،  ” ب فارم” کی پابندی سے لاکھوں بچے رجسٹریشن سے محروم رہ جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ انتظامیہ کو ایسے فیصلے کرتے وقت نجی تعلیمی اداروں کے سربراہان کو بھی اعتماد میں لینا چاہئے۔ میاں ندیم احمد نے کہا کہ ایسے اقدامات طلباء و طالبات، والدین اور اساتذہ کو پریشان کرنے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close