کالم

تعلیمی انقلاب کا نعرہ لگانے والے ہی تعلیم کے دشمن بن گئے، میاں ندیم احمد

اساتذہ کی بظاہر حمایت مگر نی سکول بند ہونے سے روزگار چھن جائے گا، حکومت اپنے غلط فیصلے پر نظر ثانی کرے

حکومت پنجاب نے بی اور سی کیٹیگری کے نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ کیلئے کم از کم 12 ہزار روپے تنخواہ کو لازمی قرار دیدیا ہے،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے زمینی حقائق کو سامنے نہ رکھتے ہوئے یہ اعلان کرکے نجی تعلیمی اداروں کو مستقل طور پر بند کردینے کی طرف دھکیل دیا ہے، حکومت نے یہ بھی نہیں سوچا کی اگر نجی تعلیمی ادارے بند ہو گئے تو یہ لاکھوں کی تعداد میں بچے جو نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں انکا تعلیمی مستقبل کیا ہوگا، حکومت کو یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ سرکاری سکولوں میں پہلے ہی بیک وقت تقریباََ ایک ایک سو تک طلباء و طالبات کی کلاسز ہو رہی ہیں ایک استاد کسی بھی فارمولا کے تحت ایک سو بچوں کو نہیں پڑھا سکتا۔ حکومت نے یہ اعلان کرنے سے قبل یہ بھی مدنظر نہیں رکھا کہ سرکاری طور پر چلنے والے لٹریسی سنٹرز میں پڑھانے والے اساتذہ کو حکومت بذات خود صرف7ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دے رہی ہے، اور اب یونیسیف سے فنڈ لیکر سنٹرز چالئے جا رہے ہیں انکی تنخواہ بھی صرف7ہزار روپے دی جا رہی ہے، حالانکہ حکومت کے پاس بہت بڑا تعلیمی بجٹ موجود ہے۔ اگر حکومت خود اس اصول پر عمل نہیں کرسکتی تو نجی تعلیمی اداروں پر یہ اصول کیسے لاگو کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے آل پاکستان پرائیویٹ سکولز الائنس فاؤنڈرز کے مرکزی صدر میاں ندیم احمد سے تفصیلی گفتگو کی ان سے بی اور سی کیٹگری کو سکولوں کی آمدن اور اخراجات بارے معلومات حاصل کیں میاں ندیم احمد سے گفتگو کی روشنی میں مختلف درجات کے نجی تعلیمی اداروں کی آمدن اور اخراجات کی تفصیل بیان کی انہوں نے بتایا کہ ایک عام مڈل لیول کا ادارہ جسکی عام طور پر ماہانہ فیس 500روپے سے 600روپے ہوتی ہے، اگر ایک سکول کے بچوں کی تعداد100ہوتو اسکی کل آمدن60ہزار روپے بنتی ہے۔

مڈل کلاس تک کے سکول میں کم از کم8ٹیچرز کی ضرورت ہے، اور اسکی مینجمنٹ کے لئے ایک پرنسپل چاہئے اسی طرح اس سکول کے لئے ایک سکیورٹی گارڈ جو حکومت کی طرف سے لازمی قرار دیا گیا ہے اور ایک آیا(سکول کی صفائی) کیلئے لازمی چاہئے، حکومت کی نئی پالیسی کے تحت 9اساتذہ بشمول پرنسپل کو 12ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے ایک لاکھ8ہزار روپے جبکہ سکیورٹی گارڈ کی تنخواہ کم از کم14ہزار روپے اور آیا کی تنخواہ12 ہزار روپے ملا کر ایک لاکھ 34 ہزار روپے بنتے ہیں، اسکے علاوہ یوٹیلٹی بلز جس میں کمرشل سیوریج،بجلی کا بل، ٹیلی فون،سوئی گیس اور پینے کا پانی کے علاوہ ٹیکسز کی بھرمار جس میں سوشل سکیورٹی، اولڈ ایج، پروفیشنل ٹیکس، ایڈورٹائزمنٹ ٹیکس وغیرہ بھی شامل کئے جائیں تو یہ بھی 20ہزار سے25ہزار روپے بنتے ہیں اس طرح 100تعداد والے تعلیمی ادارہ میں آمدن 60ہزار روپے کے مقابلہ میں کم از کم اخراجات ایک لاکھ74ہزار روپے ہوتے اکثر تعلیمی ادارے کرائے کی عمارتوں میں موجود ہیں جسکا کم از کم کرایہ20ہزار سے کم نہیں اگر تھوڑے بڑے سکولوں کی بات کی جائے تو ان کا کرایہ بہت زیادہ ہے۔ اسطرح کل اخراجات تقریباََ2لاکھ روپے ہیں، اب اسی فارمولا کے تحت اگر سکول کی تعداد 200ہو تو آمدن60ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ 20ہزار روپے ہوگی جبکہ اخراجات بھی دوگنا ہوجائیں گے، اسی فارمولا کے تحت اگر سکول کی تعداد 300ہوگی تو آمدن ایک لاکھ80ہزار روپے ہوگی اسی طرح آمدن اور اخراجات میں بھی مزید اضافہ ہوگا اور خسارہ بڑھتا جائے گا۔ فیصل آباد ضلع میں تقریباََ5400سے زائد نجی تعلیمی ادارے موجود ہیں جن میں سے کم از کم75فی صد ایسے سکول ہیں جن کی فیسیں500روپے سے1000روپے تک ہیں، اور ان سکولوں میں طلباء و طالبات کی تعداد300 یا 300سے کم ہے، جن میں 12لاکھ سے زائد طلباء و طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں، اس فارمولے کو آگے بڑھاتے ہوئے اگر ایک ہزار روپے فیس وصول کرنے والے 100طالبعلم کی تعداد والے سکول کے بجٹ کا تجزیہ کیا جائے تو سکول کی آمدن ایک لاکھ روپے بنتی ہے، اسی طرح200تعداد والے سکول کی آمدن2لاکھ روپے بنتی ہے، جس شخص نے یہ نجی سکول کھولا ہے اور جو اسے چلا رہا ہے اسے600روپے ماہانہ فیس والے ادارے کو ہر ماہ اپنی جیب سے100بچوں والے سکول کیلئے ایک لاکھ روپے نقصان برداشت کرنا پڑیگا اور 200تعداد والے ادارہ بمشکل اپنے اخراجات ہی پورے کریگا۔ حکومت وقت جو عوام کے مسائل فوری حل کرنے کی سب سے بڑی دعویدار ہے اس حکومت کے ذمہ داران کو مندجہ بالا فارمولا کے تحت بجٹ بنا کر اپنی اصلاحات نافذ کرنی چاہئے کہ فوری طور پر نجی تعلیمی اداروں کی درجہ بندی کی جائے جس میں سکولوں کے طلباء و طالبات کی تعداد اور ان سے وصول ہونے والی فیسوں کو سامنے رکھے اور نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کی ایسوسی ایشنز کے نمائیندگان کو اعتماد میں لینے کیلئے فوری اجلاس بلایا جائے جس میں مندرجہ بالا مسائل اور مشکلات پر تفصیلی سوش بچار کے بعد مناسب فیصلے کئے جائیں بصورت دیگر ایک بہت بڑا تعلیمی بحران حکومت کے سامنے کھڑا ہو جائے گا۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close