قومی

تعلیمی اداروں کی دوبارہ بندش کومسترد کرتے ہیں, فیصلے پر نظرثانی کی جائے، میاں ندیم احمد

فیصل آباد (94 نیوز) حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں کی دوبارہ بندش کومسترد کرتے ہیں، اور حکومتی تعلیم دشمنی کی بھر پور مذمت کرتے ہیں، یہ بات مرکزی صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز الائنس فاؤنڈرز میاں ندیم احمد نے حکومت کی طرف سے کورونا کی آڑ میں 26نومبر سے 10جنوری تک تعلیمی اداروں کو ایک بار دوبارہ بند کرنے کے اعلان پر گفتگو کرتے ہوئے کہی،
میاں ندیم احمد نے کہا کہ یہ کیسی حکومت ہے جو ملک سے تعلیم کے خاتمہ پر تلی ہوئی ہے اور کورونا کی آڑ میں تعلیمی اداروں کو بند کررہی ہے، انہوں نے کہا کہ تمام تعلیمی اداروں میں کورونا ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کروایا جا رہا ہے، اور کوئی بھی بچہ بغیر ماسک کے ادارے کے اندر داخل نہیں ہوسکتا، لیکن حکومت کو نہ اپنے سیاسی جلسے نظر آتے ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود ہوتے ہیں اور کسی نے بھی حتٰی کہ حکومتی وزراء اور حکومتی نمائندوں نے بھی کسی ایس او پیز پر عمل نہیں کیا، اور نہ ہی اپوزیشن کے جلسوں میں عمل درآمد ہوا، تمام کاروباری مراکز بغیر ایس او پیز پر چل رہے، ٹرانسپورٹ بغیر ایس او پیز پر چل رہی، شادیاں بغیر ایس او پیز پر ہو رہیں، کسی بھی سڑک پر رش کے باوجود لاپرواہی برتی جارہی حتٰی کہ وزراء کی پریس کانفرنسز میں بھی رش دیکھنے کو ملتا اور وہاں بھی کورونا نہیں آتا، اگر کورونا آتا ہے تو صرف تعلیمی اداروں کی حدود میں آتا ہے، یہ منطق سمجھ سے بالا تر ہے،

میاں ندیم احمد نے کہا کہ طالبعلموں کا تعلیمی قتل کیا جا رہا ہے، حکومت پتہ نہیں کس ایجنڈے کے تحت پاکستان کے بچوں کو تعلیم سے دور رکھ کر جہالت کے اندھیروں میں دھکیل رہی ہے، پاکستان میں پہلے ہی لٹریسی ریٹ بہت کم ہے، اب مزید جہالت کے اندھیروں میں دھکیل کر عوام کو صرف مزدور، بھکاری اور جرائم پیشہ بنانے کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے طلباء و طالبات میں بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے شاید ملک دشمن عناصر کو یہ بات پسند نہیں کہ پاکستانی عوام ترقی کرے اور وہ ہمارے مستقبل کے ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلاء اور دیگر اہم شعبوں سے ٹیلنٹ کا خاتمہ چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ بچوں کا پہلے ہی بہت زیادہ تعلیمی نقصان ہو چکا ہے، والدین اورپڑھنے والے لائق بچے حکومت کے اس اقدام سے سخت پریشان ہیں، صرف چند سرکاری سکولوں کے اساتذہ نے سوشل میڈیا پر جھوٹے والدین بن کر شور ڈالا ہوا تھا، ان کو تو سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے تنخواہ مل رہی ہے، لیکن سکولوں سے جڑے ہوئے بیسیوں کاروباری اور غریب محنت کشوں کو فاقوں پر مجبور کیا جا رہاہے،

انہوں نے کہا کہ اس وقت ہزاروں بچے چائلڈ لیبر کی جانب جا چکے ہیں، جو کہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے، سٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہوچکا، تعلیم اداروں سے جڑے اساتذہ، نان ٹیچنگ سٹاف، ٹرانسپورٹ، رکشہ والے، کیری ڈبہ، سٹیشنری، بک ڈپو، فوٹو سٹیٹ دکاندار، پرنٹنگ پریس مارکیٹ، سکولوں کے پا کھڑے ہونے والے غریب ریڑھی والے جو کھانے پینے کی اشیاء بیچتے، ٹیلر ماسٹر، یونیفارم سے جڑے لوگ، اور اس طرح ہزاروں خاندان جو اس سے روزگار کما رہے ہیں، ان کا روزگار چھین کر حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے سمجھ سے بالا ترہے۔

میاں ندیم احمد نے کہا کہ حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور تعلیمی اداروں کی بندش سے باز رہے، بچوں کا مستقبل تباہ نہ کیا جائے، بچوں کو امتحانات کی تیاری کے لئے کلاس رومز کا ماحول بہت ضروری ہے،

میاں ندیم احمد نے مزید کہا کہ عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو یہ فرماتے تھے کہ تعلیم کو تبا کردیا گیا، قومیں تعلیم کو فروغ دینے سے بنتی ہیں، اب جبکہ خود وزیر اعظم ہیں تو تعلیم کے شعبہ کا بیڑہ ہی غرق کردیا، غریب والدین پتہ نہیں کس طرح اپنے بچوں کے تعلیمی اخرجات پورے کررہے ہیں، بچوں کا تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچایا جائے، اور فی الفور اس فیصلے کو واپس لیا جائے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close