قومی

تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ بھاری دل کے ساتھ کیا، شفقت محمود

اسلام آباد (94 نیوز) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ بھاری دل سے کیا۔

یہ بات انہوں نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہی انہوں نے کہا کہ ہم نے تعلیمی ادارے کورونا کیسز تیزی سے بڑھنے پر بند کیے اور تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ بھاری دل کے ساتھ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میری طلبا سے گزارش ہے یہ وقت چھٹیوں میں مت گزاریں اور طلبا اپنے نصاب کو دوبارہ پڑھیں، ہوم ورک کریں۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے مزید کہا کہ طلبا اپنی پڑھائی زیادہ سے زیادہ کریں۔

گذشتہ روز وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ملک بھر کے تعلمی ادارے کھولنے سے متعلق حکومتی پلان بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے لیے تعلیمی ادارے اتنا عرصہ بند رکھنے کے بعد دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ انتہائی مشکل تھا۔
کیونکہ بڑی مشکل سے تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تھا، یونیورسٹیاں دوبارہ آباد ہوئی تھیں۔

لیکن صورتحال ایسی بنی ، جس کے پیش نظر بڑے بوجھل دل سے یہ فیصلہ کیا کہ بچوں کی صحت زیادہ اہم ہے۔ اسی لیے ہم نے دس جنوری تک تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا اعلان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمارا قوی ارادہ ہے کہ ہم 11 جنوری سے تعلیمی ادارے کھول دیں لیکن جنوری کے پہلے ہفتے میں ہم صورتحال کا جائزہ لیں گے ، اور دیکھیں گے کہ آیا ہم تعلیمی ادارے کھول سکتے ہیں یا نہیں۔
یہ فیصلہ جنوری کے پہلے ہفتے میں ہو جائے گا کہ ہم نے تعلیمی ادارے کھولنے ہیں یا مزید بند کرنے ہیں۔ خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کے اجلاس میں کورونا وائرس کے باعث تعلیمی ادارے ایک مہینہ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا تھا کہ 26 نومبر سے 24 دسمبر تک ملک کے تعلیمی اداروں کو بند رکھا جائے گا۔ اس دوران ملک بھر میں تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز کا انعقاد کریں گے اور 11 جنوری سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے دوبارہ کھول دیے جائیں گے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close