قومی

تبدیلی سرکار کی زکوٰۃ اور بیت المال کے فنڈز میں 3.67 ارب روپے کی "ہیرا پھیری” تہلکہ خیز خبرآگئی

اسلام آباد(94 نیوز)  آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں رواں سال محکمہ زکوٰۃ اور بیت المال کے مشترکہ طور پر آڈٹ کیے گئے 5 ارب 96 کروڑ کے مجموعی فنڈ میں 3 ارب 67 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کا علم ہواہے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان بیت المال کا سالانہ بجٹ 5 ارب روپے ہے اور سال 20-2019 کے آڈٹ میں 3 ارب 10 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، بیت المال کے کیس میں غیر متعلقہ اخراجات مجموعی فنڈز کا 62 فیصد تھے اور ان میں سے 47 کروڑ 50 لاکھ روپے ریکور کرلیے گئے تھے۔

آڈیٹر جنرل نے زکوٰۃ اور بیت المال فنڈز کی تقسیم میں شفافیت کی کمی سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کروانے سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایت پر اپنی رپورٹ جمع کروائی تھی۔20 اپریل کو کورونا وائرس کی عالمی وبا کا مقابلہ کرنے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے لیے گئے اقدامات پر ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ عدالت کو زکوٰۃ اور بیت المال فنڈز کی کٹوتی اور ضرورت مند افراد میں ان کی تقسیم سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئیں تھیں۔اے جی پی کی رپورٹ کے علاوہ سپریم کورٹ میں وفاقی وزارت صحت، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان حکومتوں کی جانب سے بھی رپورٹس جمع کروائی گئیں تھیں۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان بیت المال کا سالانہ بجٹ 5 ارب روپے ہے اور سال 20-2019 کے آڈٹ میں 3 ارب 10 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، بیت المال کے کیس میں غیر متعلقہ اخراجات مجموعی فنڈز کا 62 فیصد تھے اور ان میں سے 47 کروڑ 50 لاکھ روپے ریکور کرلیے گئے تھے۔

اسی عرصے کے دوران زکوٰۃ فنڈز کے آڈٹ کے لیے 7 ارب 38 کروڑ روپے کے مجموعی بجٹ کے 13 فیصد حصے کا سیمپل آڈٹ کیا گیا، مجموعی رقم کا 13 فیصد 96 کروڑ 10 لاکھ روپے بنتا ہے جس میں اے جی پی نے 57 کروڑ 40 لاکھ روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے جمع کی گئی زکوٰۃ کو ایک فارمولے کے تحت صوبوں کو منتقل کیا جاتا تھا جو مجموعی زکوٰۃ کا 7 فیصد حصہ دارالحکومت اسلام آباد، فاٹا اور گلگت بلتستان کے لیے رکھنے کی اجازت بھی دیتا تھا،اس فنڈ میں سے اسلام آباد کا حصہ 35 فیصد، فاٹا کا 46 فیصد اور گلگت بلتستان کا 19 فیصد ہے۔اے جی پی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دیگر 93 فیصد زکوۃ فنڈز کو صوبوں میں تقسم کردیا جاتا تھا جن میں سے 57 فیصد فنڈز پنجاب، 24 فیصد سندھ، 14 فیصد خیبر پختونخوا اور 5 فیصد بلوچستان کو دیے جاتے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ نئے مرکز میں مفت خوراک، ہاؤسنگ کیپنگ، لانڈری، ٹیسٹنگ سروسز اور طبی سہولیات سمیت بہتر سہولیات موجود ہیں۔

سیکریٹری صحت نے چک شہزاد میں ایک ارب 30 کروڑ کی لاگت سے تیار کیے جانے والے زیر تعمیر 44 کنال کے آئسولیشن ہسپتال اور انفیکشن ٹریٹمنٹ سینٹر کا بھی دورہ کیا تھا، اس مرکز میں 50 بستروں پر مشتمل آئی سی یو سمیت 250 بستر ہوں گے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ آئسولیشن مرکز منفرد ہے اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں بھی قائم کیا جانا ہے، یہ مرکز چین کے تعاون اور مالی معاونت سے قائم کیا جارہا ہے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close