تقریبات/سیمینارز

بین المذاہب امن کمیٹی پاکستان کے زیر اہتمام استحکامِ پاکستان امن کانفرنس، تمام مذاہب و مکاتبِ فکر کے رہنماؤں کی بھرپور شرکت


فیصل آباد (94 نیوز سٹی رپورٹر) بین المذاہب امن کمیٹی پاکستان کے زیراہتمام استحکامِ پاکستان امن کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت مرکزی چیئرمین پیر محمد ندیم ابراہیم سیالوی نے کی، جبکہ بیرسٹرمیاں آفاق جمیل مہمانِ خصوصی تھے۔ کانفرنس میں تمام مکاتبِ فکر اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے جید مذہبی و سماجی رہنماؤں، سیاسی و کاروباری شخصیات اور دیگر معززین نے شرکت کی- کانفرنس میں سرپرستِ اعلیٰ مفتی نصر اللہ عزیز، مولانا عاقب علی امجد، مولانا عبدالقادر، پیر عبدالرزاق گیلانی، دالدار سندھو ایڈووکیٹ، تاجر رہنما رانا دلشاد، ملک شہباز سرور، ڈاکٹر دلنواز تیجا، فاروق ایوب، شہزاد مسیح اور سلیم مسیح سمیت دیگر شخصیات شریک ہوئیں-کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان کا امن، استحکام، قومی یکجہتی اور بین المذاہب ہم آہنگی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں تمام مذاہب اور مکاتبِ فکر کے رہنماؤں کو باہمی رواداری، بھائی چارے اور امن کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا-مقررین نے کہا کہ پاکستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے اور اس کی سلامتی و استحکام کے لیے ہر پاکستانی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ سفیرِ امن حضرت پیر محمد ابراہیم سیالویؒ کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے بین المذاہب امن کمیٹی پاکستان کے وفد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک میں امن، اتحاد، بھائی چارے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔کانفرنس میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ بین المذاہب امن کمیٹی پاکستان ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ مقررین نے کہا کہ پاک فوج ملک کا فخر ہے اور پاکستان کی عزت و وقار اور دفاع کے لیے افواجِ پاکستان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی رواداری، برداشت، اتحاد اور باہمی احترام کو فروغ دے کر ہی پاکستان کو ایک مضبوط، پرامن اور مستحکم ملک بنایا جا سکتا ہے۔کانفرنس کے اختتام پر بانی بین المذاہب امن کمیٹی، پیرِ طریقت رہبرِ شریعت حضرت علامہ مولانا پیر محمد ابراہیم سیالویؒ کے مزار پر حاضری دی گئی، جہاں ملکی سلامتی، استحکام، امن و امان، قومی یکجہتی اور مرحوم کی مغفرت کے لیے خصوصی دعا بھی کرائی گئی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button