قومی

ایف ڈی اے کے کمرشل اور رہائشی پلاٹس کی نیلامی بدھ 26 نومبر کو 11 بجے دن ایف ڈی اے کمپلیکس میں ہوگی، محمد آصف چوہدری

فیصل آباد (94 نیوز سٹی رپورٹر) فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایف ڈی اے) کی ملکیتی مختلف رقبہ جات کے کمرشل اور رہائشی پلاٹس نیلام عام کے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں ان پلاٹس کی نیلامی بدھ 26 نومبر 2025 کو 11 بجے دن ایف ڈی اے کمپلیکس بالمقابل سول ہسپتال میں منعقد ہوگی۔ ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے محمد آصف چوہدری نے ایک اجلاس میں نیلامی کے انتظامات کا جائزہ لیا اور ہدایت کی کہ خواہش مند افراد کی دلچسپی کے لئے پلاٹس کی تفصیلات کو وسیع پیمانے پر مشتہر کیا جائے۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے قیصر عباس رند، ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ ون جنید حسن منج، اور دیگر افسران موجود تھے۔ ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے نے ہدایت کی کہ نیلامی کے انتظامات میں کوئی رخنہ اندازی نہیں ہونی چاہیئے اور خوشگوار ماحول میں بولی دہندگان کو ہر قسم کی انتظامی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ نیلامی کے عمل کو ہر طرح سے شفاف اور منظم رکھا جائے اس سلسلے میں نیلام کمیٹی نیلامی کے امور کی نگرانی کرے گی۔ ڈی جی ایف ڈی اے نے بتایا کہ ایف ڈی اے کے مالی وسائل میں اضافہ کرنے کے لیے مختلف محل وقوع کے قیمتی پلاٹس نیلام عام کے ذریعے فروخت کیے جا رہے ہیں اور اس طرح حاصل ہونے والے فنڈز شہری ترقی، ادارے کی استحکام اور عوامی بہبود کے منصوبوں پر خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے ہدایت کی نیلامی کی تفصیلات کے بارے میں خواہشمند افراد کی مکمل رہنمائی ہونی چاہیئے۔ اجلاس کے دوران ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ جنید حسن منج نے نیلامی کے لیے منتخب کئے گئے پلاٹ کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ مختلف ہاؤسنگ سکیموں میں تعلیم و صحت و دیگر مفاد عامہ کی سہولیات کے لیے مختص 114 پبلک یوٹیلٹی سائٹس کی فروخت کے لیے نیلام عام میں رکھی جائیں گی جبکہ مدینہ ٹاؤن، احمد نگر، ملت ٹاؤن اور دیگر علاقوں میں دستیاب کمرشل و رہائشی پلاٹس بھی فروخت کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ گلستان پلازہ کی دکانیں بھی نیلامی میں لیز پر دی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ چناب کلب چوک اور ایف ڈی اے کے مرکزی آفس سمیت شہر کے اہم چوکوں پلاٹس کی تفصیلات آویزاں کر دی گئی ہیں۔ شہری پلاٹس کی تفصیلات اور شرائط نیلامی کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے دفتر ایف ڈی اے سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button