قومی

اپوزیشن رہنماؤں کا سیاسی جماعتوں کا اتحاد قائم کرنے پر اصرار

اسلام آباد : ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا ماننا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی بحران کے لیے اپوزیشن اتحاد نہایت ضروری ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (پی ایم ایل ن) کے سینئر رہنماؤں کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے قوم سے پہلے خطاب کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔

سینئر رہنماؤں کے مطابق عمران خان کی کابینہ میں سابق صدرِ مملک جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور کے وزرا اور مشیروں کو کابینہ میں شامل کرلیا گیا ہے۔

وزیراعظم کے خطاب اور وفاقی کابینہ سے متعلق سوال کے جواب میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے رہنماؤں نے کابینہ میں پرویز مشرف کی کابینہ کے ارکان کی شمولیت پر اظہارِ تشویش کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان وزرا کی شمولیت صوبائی خود مختاری،پارلیمان،ٹریڈ یونینز اور آزادی صحافت کے لیے خطرہ ہے۔

سابق سینیٹ چیئرمین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی بحران سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام جمہوری قوتوں کا ایک قومی اتحاد تشکیل دیا جائے۔

پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان پارلیمانی اور آئینی امیدواروں کی نامزدگی پر جاری تناؤ سے متعلق رضاربانی کا کہنا تھا کہ ‘اپوزیشن کو چاہیے کہ معمولی مسائل پر تکرار سے گریز کرے اور معاملات کی گہرائی کو سمجھے۔’

انہوں نے کہا کہ‘ یہ اب اس لیے بھی ضروری ہے کہ کابینہ میں مشرف کے بھی سابق ساتھی شامل ہیں۔’ انہوں نے مزید کہا کہ‘ ایک متحد اپوزیشن پارلیمنٹ میں مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے جبکہ ایک تقسیم شدہ اپوزیشن عوام اور تاریخ کو جوابدہ ہوگی۔’

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے زیادہ تر ان موضوعات پر گفتگو کی جو صوبوں کے اختیار میں آتے ہیں، یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ حکومت تاریخی اٹھارویں ترمیم کو ختم کرسکتی یے جس کے تحت صوبوں کو مزید اختیارات دیے گئے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے (ن) لیگ کے امیدوار شہباز شریف کو وزیراعظم کے امیدوار نامزد کیے جانے کی مخالفت کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان خلا اس وقت مزید بڑھ گیا جب پاکستان پیپلز پارٹی نے صدرِ پاکستان کے امیدوار کے لیے اعتزاز احسن کو یک طرفہ فیصلے میں نامزد کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے (ن) لیگ کے صدر شہباز شریف کو وزیراعظم کے لیے ووٹ نہیں دیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے پی پی پی رہنماؤں کے خلاف کچھ متنازع بیانات دیے تھے۔

اب پیپلز پارٹی نے ایسے شخص کو نامزد کیا ہے جس نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی اہلیہ کلثوم نواز کی بیماری سے متعلق غلط بیانات دیے تھے، پیپلز پارٹی کے اس فیصلے پر مسلم لیگ (ن) ناراض ہے۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کےرہنما احسن اقبال نے اتحاد سے متعلق رضا ربانی کے خیالات کی حمایت کی لیکن انہوں نے کہا کہ وہ اعتزاز احسن کو ووٹ نہیں دے سکتے کیوںکہ کلثوم نواز کی بیماری اور علاج سے متعلق پی پی رہنما کے متنازع بیان پر پارٹی کارکنان غم وغصے کا شکار ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) صدر کے لئے ایک مشترکہ امیدوار چاہتی ہے جو اعتزاز احسن کے علاوہ پیپلزپارٹی کا کوئی اور امیدوار بھی ہوسکتا ہے۔

لیگی رہنما کا ماننا ہے کہ مستقبل قریب میں دونوں جماعتیں ایک مرتبہ پھر قریب آجائیں گی کیونکہ اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کا ماننا ہے کہ عمران خان کی صورت میں لوگوں پر زبردستی حکومت نافذ کی گئی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ بطور وزیراعظم عمران خان کی تقریر سے واضح ہوتا ہے کہ وہ حکومت چلانے کے لیے کاروباری قوانین سے بھی واقفیت نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے قوم سے پہلے خطاب نے ثابت کردیا کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کتنے نادان ہیں اور ایسا اس لیے ہے کیونکہ انہوں نے ماضی میں کسی قومی عہدے پر کام ہی نہیں کیا۔

احسن اقبال نے کہا وزیراعظم نے کشمیر ، سی پیک، دہشتگردی، توانائی اور خارجہ پالیسی جیسے اہم ترین مسائل کا تذکرہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت گرانا نہیں چاہتے لیکن الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف احتجاج جاری رکھیں گے اور اسے عوام کے سامنے بھی لائیں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے بھی کچھ اسی طرح کا بیان دیا کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں سول ملٹری تعلقات کا ذکر نہیں کیا جو کہ اس وقت اہم ترین مسئلہ ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ الیکشن میں دھاندلی کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی بنائے جانے کے مطالبے سے متعلق بھی کوئی بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن کو باقاعدہ امیدوار نامزد نہیں کیا بلکہ پاکستان مسلم لیگ (ن)اور دیگر جماعتوں کو اطلاع دی تھی کہ ہم ایسا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی نے شہباز شریف کو وزیراعظم کے انتخاب میں ووٹ نہیں دیا لیکن انہوں نے قومی اسمبلی میں انہیں قائد حزب اختلاف نامزد کیا تھا یہاں تک کہ شہباز شریف کی نامزدگی پر پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو نے دستخط بھی کیے تھے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close