بین الاقوامی

انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام، شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت کاحکم 

ڈھاکہ (94 نیوز) بنگلہ دیش کی عدالت نے سابق وزیراعظم حسینہ واجدکو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے مجرم ٹھہرادیا اور شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت کا حکم سنا دیا۔

بنگلہ دیشی عدالت نے کہا ہے کہ لیک فون کال کے مطابق حسینہ واجد نے مظاہرہ کرنے والے طلبا کے قتل کےاحکامات دیئے، ملزمہ شیخ حسینہ واجد نے طلبا کے مطالبات سننے کے بجائے فسادات کو ہوا دی، حسینہ واجد نے طلبا کی تحریک کو طاقت سے دبانے کیلئے توہین آمیز اقدامات کئے۔

عدالت نے کہاکہ حسینہ واجد اور سابق وزیر داخلہ اسد الزماں خان کمال ابھی تک مفرور ہیں، پیشی کیلئے بھیجے گئے متعدد نوٹسز کے باوجود دونوں ملزمان کا مفرور ہونا ان کے جرم کا  اعتراف ہے، پیش کئے گئے تمام شواہد انسانیت کے خلاف جرائم کی نشاندہی کرتے ہیں، عدالت نے کہاکہ مقدمے میں نامزد ملزم سابق پولیس چیف چودھری عبداللہ المامون کو معمولی سزا سنائی جائے گی، المامون واحد ملزم ہے جو عدالت میں موجود تھے، جولائی میں سماعت کے دوران اعتراف جرم کیاتھا۔

عدالت نے کہاکہ شیخ حسینہ نے ڈرون، ہیلی کاپٹر اور مہلک ہتھیاراستعمال کرنے کے حکم سے انسانیت کیخلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔

سابق وزیراعظم حسینہ واجد کیخلاف انسانیت کے جرائم کا مقدمہ گزشتہ سال سے زیر سماعت تھا جس میں انہیں سزائے موت دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں قرار دیا گیا تھا کہ گزشتہ سال 15 جولائی سے 5 اگست کے درمیان حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے تقریباً 1400 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، جو 1971 کی آزادی کی جنگ کے بعد سے بنگلہ دیش میں سب سے بدترین سیاسی تشدد تھا۔شیخ حسینہ اگست 2024 میں بنگلہ دیش چھوڑ کر نئی دہلی میں جلاوطنی میں رہ رہی ہیں۔

78 سالہ حسینہ نے عدالت کے احکامات کو رد کرتے ہوئے عدالت میں پیشی کے لیے بھارت سے واپس آنے سے انکار کر دیا تھا، جس میں یہ تعین ہونا تھا کہ آیا انہوں نے اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج پر جان لیوا کریک ڈاؤن کا حکم دیا تھا جس کے نتیجے میں وہ برطرف ہو گئیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق کریک ڈاؤن کے دوران 1,400 تک افراد ہلاک ہوئے، جو اس مقدمے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ حسینہ اقتدار پر قابض رہنے کی کوشش کر رہی تھیں۔گزشتہ ہفتے فیصلے کی تاریخ مقرر کیے جانے پر چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے صحافیوں سے کہا تھا کہ ’انصاف قانون کے مطابق فراہم کیا جائے گا‘۔

پراسیکیوٹرز نے پانچ الزامات دائر کیے، جن میں قتل کو روکنے میں ناکامی بھی شامل ہے، جو بنگلہ دیش کے قانون کے تحت انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔عدالت نے غیر حاضری میں مہینوں تک شہادت سنی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ حسینہ نے بڑے پیمانے پر قتل کا حکم دیا تھا، شیخ حسینہ واجد نے اس مقدمے کو ’قانونی مذاق‘ قرار دیا۔

ان کے شریک ملزمان میں سابق وزیر داخلہ اسدالزمان خان کمال(مفرور) اور سابق پولیس چیف چوہدری عبداللہ المامون شامل ہیں، جو حراست میں ہیں اور جرم قبول کر چکے ہیں۔

حسینہ واجد کو عدالت کے لیے ریاستی وکیل فراہم کیا گیا لیکن انہوں نے عدالت کے اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ تمام الزامات کو رد کرتی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button