امام احمد رضا خان بریلوی کے پڑ پوتے مفتی محمد اختر رضا انتقال کر گئ


نئی دہلی(خصوصی رپورٹ)عالم اسلام کے ممتاز مفکر اور روحانی شخصیت اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی کے پڑپوتے اورجانشین مفتی اعظم ہند تاج الشریعہ حضرت مولانا مفتی محمد اختر رضا خان بریلوی گزشتہ روز خالق حقیقی سے جا ملے۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے۔آپ کے انتقال سے عالم اسلام ایک عظیم ترین علمی و روحانی شخصیت سے محروم ہو گیا ہے ۔ مولانا محمد اختر رضا خان کے والد محمد ابراہیم خان، امام احمد رضا خان کے صا حبز ادے محمد حامد رضا خان کے فرزند ارجمند تھے۔ مولانا اختر رضا خان بریلوی مکتبہ فکر کی معروف شخصیت تھے اور بھارت میں مفتی اعظم کے نام سے جانے جاتے تھے۔ اردن کی رائل اسلامک سوسائٹی کی طرف سے دنیا کے بااثر ترین مسلمانوں کی جاری کردہ فہرست میں مولانا اختر رضا خا ن کا بائیسواں نمبر تھا۔ وہ 2 فروری 1943ء کو بریلی میں پیدا ہوئے اور گزشتہ روز 20 جولائی 2018ء کو 75 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ مرحوم معروف اسلامک یونیورسٹی جامعۃ الازہرمصر سے فارغ التحصیل تھے۔ انہوں نے 2000ء میں بھارتی صوبے اترپردیش کے شہر بریلی میں اسلامی تعلیمات کیلئے جماعت الرضا کے نام سے ایک اسلامک سنٹر بھی قائم کیا۔ ان کی نعتوں پر مشتمل کتاب سفینہ بخشش کا 3 زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے جبکہ ان کی فتوؤں پر مشتمل کتاب کا نام اظہار ا لفتاویٰ ہے یہ بھی کئی زبانوں میں شائع ہو چکی ہے۔مرکزی جماعت اہلسنت کے امیر پیر عبدالخالق القادری اورناظم اعلی پیر سید عرفان شا شاہ مشہدی نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیااور کہاہے آپکی وفات سے پیدا ہونیوالا خلا مدتوں پورا نہیں ہو گا۔



