قومی

الیکشن کمیشن نے اسحاق ڈار کی سینیٹ نشست سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

اسلام آباد (94 نیوز) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حلف نہ اٹھانے پر اسحاق ڈار کی سینیٹ نشست خالی قرار دینے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن میں اسحاق ڈار کی سینیٹ نشست خالی قرار دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ اسحاق ڈار کے وکیل سلمان اسلم بٹ الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔الیکشن کمیشن نے حلف نہ اٹھانے پر اسحاق ڈار کی نشست خالی قرار دینے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ اسحاق ڈار کا ایک کیس کل بھی مقرر ہے۔ وکیل اسحاق ڈار نے کہا کل والا کیس مختلف ہے۔ ممبر بلوچستان کا کہنا تھا کہ 60 دن میں حلف نہ لینے پر نشست خالی قرار دینے کا آرڈیننس آیا تھا۔ وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ بطور کامیاب امیدوار 9 مارچ کو اسحاق ڈار کا نوٹیفکیشن جاری ہوا،29 مارچ 2018 کو اسحاق ڈار کی کامیابی کا نوٹیفکیشن معطل ہوا، سپریم کورٹ سے درخواست خارج ہونے پر نوٹیفکیشن بحال ہوگیا۔

آرٹیکل 63 پی کے تحت نااہلی آرڈیننس کے ذریعے لائے گئے قانون سے نہیں ہوسکتی۔ وکیل کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار پر آرڈیننس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ الیکشن کمیشن سینیٹ نشست خالی قرار دینے کا نوٹس واپس لے۔آرڈیننس کی مدت ویسے ہی پوری ہوچکی ہے۔ کوئی رکن پانچ سال بھی حلف نہ اٹھائے تو نااہل نہیں ہوسکتا۔الیکشن ایکٹ میں ترمیم سے دو ماہ میں حلف نہ اٹھانے پر نا اہلی کی شق نکال دی گئی۔
ممبر خیبرپختونخوا اکرام اللہ نے کہا کہ سوال یہی ہے اسحاق ڈار نا اہل ہوچکے ہیں یا نہیں؟ ترمیمی ایکٹ سے پہلے اگر اسحاق ڈار نااہل تھے تو اب اہل کیسے ہوگئے؟ الیکشن کمیشن قانون کی تشریح نہیں کر سکتا۔ وکیل سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کا جاری آرڈیننس ہی غیرآئینی تھا۔ یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحاق ڈار 5 سال کے بعد آج وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ پاکستان پہنچیں گے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close