قومی

اتحادیوں سے پریشان حکومت، بی این پی مینگل کی شرائط بھی منظور کر لی گئیں

اسلام آباد (94 نیوز) بی این پی مینگل حکومت سے شرائط منوانے میں کامیاب ہو گئی۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے حکومت سے اپنی شرائط منواتے ہوئے گوادرپورٹ اتھارٹی آرڈیننس 2002ء میں ترمیم کے لئے تجاویز پیش کر دیں جو حکومت منظور کرنے پر رضا مند ہوگئی۔ گوادرپورٹ اتھارٹی آرڈیننس 2002ء میں ترمیم کے بعد 40 فیصد نوکریاں مقامی علاقہ مکینوں کو دی جائیں گی۔  جبکہ مقامی افراد کو سمندر میں جانے کی اجازت دی جائے گی ۔ جبکہ 50 فیصد پڑھے لکھے افراد کو رکھا جائے گا۔ حکومت ترامیم پر رضا مند ہو گئی ہے جبکہ آئندہ اجلاس میں مذکورہ آرڈیننس کا مسودہ پیش کیا جائے گا۔ مجوزہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ گوادر میں نئے تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں گے۔انفراسٹرکچر بہتر بنایا جائے گا۔

واضح رہے حکومت کی جانب سے اتحادیوں کو منانے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سے قبل بھی عمران خان متعدد بار اتحادیوں کو منانے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے چکے ہیں۔ اس سے قبل سابق وزیر خزانہ اسد عمر کو ٹاسک دیا گیا تھا کہ ناراض ایم کیو ایم کو منائیں جس پر حکومتی وفد ایم کیو ایم کے بہادر آباد آفس پہنچا۔ جس کےبعد حکومتی وفد کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ بات بھی قابل غور رہے کہ مسلم لیگ ق بھی حکومت سے ناراض نظر آتی ہے۔اندرونی ذرائع کے مطابق جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے دئیے گئے دھرنے میں ایک موقع پر انکشاف کیا کہ گجرات کے چوہدریوں نے یہ دھرنا سپونسر کیا تھا اور اس کی فنڈنگ بھی کی۔تاہم ایک اور طاقتور رہنما نے اس کی تردید کی اور کہا یہ معلومات غلط ہیں جو کچھ ملاقات میں ہوا وہ پرویزالہی نے بھی بتایا اور اس پر پریشانی کا اظہار کیا۔ تاہم حکومت کی جانب سے اتحادیوں کو منانے کا سلسلہ جاری ہے جس کے بعد حکومت نے بی این پی کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے گوادر آرڈیننس 2002ء میں ترامیم کا فیصلہ کر لیا ہے جو کہ حکومت کے لئے ایک اچھی خبر بھی ہے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close